Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی :کروڑوں کا بجٹ لیکن محکمۂ صحت کے پاس ایمبولنس نہیں!

Updated: June 30, 2026, 3:01 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

کروڑوں روپے کے سالانہ بجٹ والی بھیونڈی نظام پور شہر میونسپل کارپوریشن کے محکمۂ صحت کے پاس اپنی ایک بھی ایمبولنس نہ ہونے کا حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے۔

Bhiwandi Corporation.Photo:INN
بھیونڈی کا رپوریشن۔ تصویر:آئی این این
کروڑوں روپے کے سالانہ بجٹ والی بھیونڈی نظام پور شہر میونسپل کارپوریشن کے محکمۂ صحت کے پاس اپنی ایک بھی ایمبولنس نہ ہونے کا حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے باعث شہر کے غریب اور ضرورت مند شہری ہنگامی طبی حالات میں نجی ایمبولینس خدمات کے رحم و کرم پر ہیں۔ نجی ایمبولینس آپریٹروں کی جانب سے من مانے کرایوں کی وصولی سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ سرکاری ۱۰۸؍ ایمبولنس سروس کی محدود دستیابی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔  
 
 
اطلاعات کے مطابق۲۰۱۱ءمیں بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام اندرا گاندھی میموریل اسپتال کو ریاستی حکومت کے محکمۂ صحت کے حوالے کئے جانے کے بعد میونسپل کارپوریشن کے پاس اپنا کوئی بڑا اسپتال باقی نہیں رہا۔ اگرچہ اس وقت کارپوریشن کے تحت ۲۰؍پرائمری ہیلتھ سینٹر، ایک بی جی پی دواخانہ، قومی شہری صحت مشن کے تحت ۲۹؍ ہیلتھ اینڈ ویلنیس مراکز اور ۱۰؍ بالاصاحب ٹھاکرے آپلا دواخانہ کام کر رہے ہیں۔ تاہم محکمۂ صحت کے پاس اپنی ایمبولنس کی عدم دستیابی ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
شہر میں کسی بھی سنگین مریض کو علاج کے لئے تھانے یا ممبئی کے بڑے اسپتال منتقل کرنے کی صورت میں نجی ایمبولینس کا سہارا لینا پڑتا ہے، جہاں اکثر مریضوں سے بھاری کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال سے بالخصوص غریب اور متوسط طبقے کے افراد شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
کارڈیاک ایمبولنس بھی انتظامی لاپروائی کی نذر
کورونا وبا کے دوران رکن اسمبلی مہیش چوگھلے نے اپنے مقامی ترقیاتی فنڈ سے ایک جدید کارڈیاک ایمبولنس میونسپل کارپوریشن کو فراہم کی تھی لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ۳؍ برس تک اس کے لئے نہ ڈرائیور مقرر کیا گیا اور نہ ہی طبی عملہ تعینات کیا گیا، جس کے باعث یہ قیمتی ایمبولنس غیر استعمال شدہ پڑی رہی۔ بعد ازاں رکن اسمبلی نے مذکورہ ایمبولنس واپس لے کر اسے سماجی تنظیموں ’مِت فاؤنڈیشن‘ اور ’یووا انڈین فاؤنڈیشن‘ کے حوالے کر دیا۔بھیونڈی جیسے بڑے شہر کیلئے صرف دو ۱۰۸؍ ایمبولنس بھیونڈی شہر اور مضافاتی علاقوں کی لاکھوں کی آبادی کیلئے سرکاری طبی خدمات کا اہم مرکز اندرا گاندھی میموریل سب ڈسٹرکٹ اسپتال ہے لیکن پورے علاقے میں صرف دو ۱۰۸؍ ایمبولنس کی دستیابی کو ناکافی قرار دیا جا رہا ہے۔ ان میں سے ایک ایمبولینس اسپتال میں جبکہ دوسری کامت گھر علاقے کے لئے مختص ہے۔
ذرائع کے مطابق بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث کامت گھر کی ایمبولنس اس وقت بھیونڈی۔واڑا روڈ پر واقع کواڈ ٹول ناکہ کے قریب کھڑی رہتی ہے جس سے ہنگامی حالات میں فوری طبی امداد کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
 
 
میونسپل کارپوریشن کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سندیپ گاڈیکر نے اعتراف کیا کہ اس وقت میونسپل کارپوریشن کے پاس اپنی کوئی ایمبولنس موجود نہیں ہے اور اس سلسلے میں میونسپل کمشنر کو ایمبولنس کی فراہمی کے لئے تحریری مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔دوسری جانب اندرا گاندھی میموریل سب ڈسٹرکٹ اسپتال کی سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مادھوی پندھارے نے بتایا کہ اسپتال میں ۱۰۲؍ ایمبولنس سروس کے تحت ۴؍ ایمبولنس دستیاب ہیں اور مریضوں کو تھانے اور ممبئی کے اسپتالوں میں منتقل کرنے کے لئے مفت ایمبولنس فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ادھر سماجی تنظیم ’آپریشن مکت بھیونڈی‘کے صدر ڈاکٹر شفیق احمد صدیقی نے میونسپل انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’کروڑوں روپے کے بجٹ والی میونسپل کارپوریشن کے پاس اپنی ایمبولنس نہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ میئر نارائن چودھری کو اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف ایمبولنس کا انتظام کرنا چاہیے بلکہ عوامی سہولت کے لئے منڈئی واقع بی جی پی اسپتال کو بھی جلد از جلد فعال بنانا چاہیے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کی اسی تکلیف کو دیکھتے ہوئے آپریشن مکت بھیونڈی اپنی ذاتی ایمبولنس کیلئے جدوجہد کررہی ہے جس سے مستحق مریضوں کو راحت ملے گی۔  شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بھیونڈی جیسے گنجان آبادی والے شہر میں میونسپل کارپوریشن کے پاس اپنی ایمبولنس سروس کا نہ ہونا انتظامی ناکامی کی واضح مثال ہے جس کے ازالے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK