Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: پانچوں پربھاگ سمیتیوں کے چیئرمین بلا مقابلہ منتخب

Updated: May 17, 2026, 1:05 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

بھیونڈی کارپوریشن میں مفادات کا کھیل، پربھاگ سمیتی نمبر ۵؍ میں بی جے پی کے واحد کارپوریٹر کو سماج وادی پارٹی کی حمایت۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

کارپوریشن کی سیاست میں عوامی خدمت کم اور ذاتی مفاد زیادہ نمایاں نظر آ رہا ہے۔ ہر فیصلے کے پیچھے مفاداتی سیاست اور پردے کے پیچھے مبینہ سازشوں کا کھیل  شہر میں موضوع بحث ہے، جس کی جھلک پربھاگ سمیتی اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے حالیہ انتخابات میں صاف دکھائی دی۔

 پانچوں پربھاگ سمیتیوں کے چیئرمین بلا مقابلہ منتخب

  واضح رہے کہ بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کی پانچوں پربھاگ سمیتیوں کے چیئرمینوں کا انتخاب بلا مقابلہ عمل میں آیا۔ پربھاگ سمیتی نمبر ایک سے این سی پی (شرد) کے حسنین فاروقی، پربھاگ سمیتی نمبر ۲؍ سے کانگریس کی تبسم ذاکر بیگ، پربھاگ سمیتی نمبر ۳؍ سے بی جے پی کی رنجیتا موہن کونڈا، پربھاگ سمیتی نمبر۴؍ سے کانگریس کی ثمینہ محمد عمران انصاری اور پربھاگ سمیتی نمبر ۵؍سے بی جے پی کے ایڈوکیٹ ویبھو ایکناتھ بھوئیر منتخب ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے عازمین کے قافلے سوئے حرم روانہ ہوتے رہتے ہیں

 پربھاگ سمیتی نمبر ۵؍ سب سے زیادہ زیربحث

سب سے زیادہ حیران کن صورتحال پربھاگ سمیتی نمبر ۵؍ میں دیکھنے کو ملی، جہاں بی جے پی کا صرف ایک ہی کارپوریٹر ہونے کے باوجود ایڈوکیٹ ویبھو ایکناتھ بھوئیر کو چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پربھاگ میں سماج وادی پارٹی، این سی پی (شرد) اور ولاس پاٹل کی کونارک وکاس اگھاڑی کے ۴۔۴؍ کارپوریٹر موجود ہیں، جبکہ جاوید دلوی کی بھیونڈی وکاس اگھاڑی کے ۳؍اراکین ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی کے واحد کارپوریٹر کا چیئرمین بن جانا سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے اور مختلف سیاسی مفاہمتوں کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

مزید حیرت اس وقت ہوئی جب بی جے پی امیدوار کی جانب سے داخل کردہ دونوں نامزدگی فارموں کی تجویز اور تائید سماج وادی پارٹی کے چاروں کارپوریٹروں نے کی۔ سیاسی تجزیہ نگار اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اس لئے بھی سوالات کھڑے کر رہی ہے کہ سماج وادی پارٹی کارپوریشن میں سیکولر فرنٹ کی حکومت کو بی جے پی کی پشت پناہی والی حکومت ثابت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔

 شہر میں سیاسی  بحث تیز

شہر میں اس بات کی  بحث ہے کہ آخر ایسی کون سی سیاسی مجبوری یا حکمت عملی تھی جس کے تحت سماج وادی پارٹی کو بی جے پی امیدوار کی حمایت کرنی پڑی۔ اگرچہ اس معاملے پر کسی بھی پارٹی کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے لیکن سیاسی حلقوں میں مختلف تبصرے کئے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: شدید گرمی سے سبزیوں کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ

 اسٹینڈنگ کمیٹی انتخاب میں بھی غیر معمولی صورتحال

ادھر اسٹینڈنگ کمیٹی کے انتخاب میں بھی غیر معمولی سیاسی منظر دیکھنے کو ملا۔ سیکولر فرنٹ کی امیدوار ایڈوکیٹ ایشا عمران خان نے شیو سینا شندے گروپ کے امیدوار کو ۴؍ ووٹوں سے شکست دے دی، لیکن سیاسی مبصرین کے مطابق اگر بی جے پی کے ۴؍ اراکین انتخاب کے وقت غیر حاضر نہ رہتے اور اپنی حلیف شیوسینا کے امیدوار کے حق میں ووٹ دیتے تو مقابلہ ۸۔۸؍ووٹوں پر برابر ہو سکتا تھا۔ ایسی صورت میں نتیجے کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کرنا پڑتا، جس سے انتخابی عمل مزید تنازع کا شکار ہو سکتا تھا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں اپنے عوامی بیانات اور عملی سیاست میں اسی طرح تضاد برقرار رکھیں گی تو عوامی اعتماد متاثر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK