Inquilab Logo Happiest Places to Work

برکاتیہ مسجد سمیت ۳۰ ؍سے زائد گھروں کو انہدامی نوٹس

Updated: August 22, 2026, 10:53 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Ulhasnagar

الہاس نگر میں ونچت بہوجن اگھاڑی کا زبردست مورچہ۔ ہزاروں افراد کی شرکت۔

A view of the `Jan Aakrosh Morcha` (Public Outrage Rally) in Ulhasnagar against demolition notices. Picture: Inquilab
انہدام کے نوٹس کے خلاف الہاس نگر میں’جن آکروش مورچہ‘ کا منظر۔ تصویر: انقلاب

الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے برکاتیہ مسجد اور اطراف کے ۳۱ ؍گھروں نیز دکانوں کو غیر قانونی قرار دے کر انہدامی نوٹس جاری کرنے پر عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ شہری انتظامیہ کے اس یکطرفہ نوٹس کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ونچت بہوجن اگھاڑی نے’ جن آکروش مہا مورچہ‘ نکالا جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں اور برادرانِ وطن نے شرکت کرکے بھائی چارے کی عظیم مثال قائم کی۔ مورچہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے دو ٹوک الفاظ میں متنبہ کیا کہ اگر مخصوص مذہب کی عبادت گاہوں اور غریبوں کی چھتوں پر بلڈوزر چلانے کی کوشش کی گئی تو عوام خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ سڑکوں پر اتر کر بھرپور اور سخت احتجاج کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’شریعت کی پابندی اور اتباع سنت ہی محبت رسولؐ کی پہچان ہے ‘‘

برکاتیہ مسجد سمیت ۳۱ ؍ مکانات اور دکانوں کو انہدامی کارروائی کے  نوٹس کے خلاف نمازِ جمعہ کے بعد الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر کے باہر ہزاروں افراد نےزبردست احتجاج کیا۔ ونچت بہوجن اگھاڑی کے زیرِ اہتمام منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں شامل افراد نے شہری انتظامیہ کے خلاف زبردست نعرے لگاتے ہوئے نوٹس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اورنگ آباد سے آئے ونچت بہوجن اگھاڑی کے رکن طیب ظفر نے میونسپل کارپوریشن پر ذات اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی کارروائی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ الہاس نگر میں تقریباً ۸۰ فیصد عمارتیں اور چالیاں غیر قانونی ہیں لیکن کارروائی کیلئے صرف ایک مخصوص مذہب کی عبادت گاہ اور غریب طبقے کے گھروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ شہری انتظامیہ جان بوجھ کر عوام کو ذات اور مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔طیب ظفر نے انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو جتنا بھی تقسیم کرنے کی کوشش کی جائے، اس شہر کے لوگ اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے سے پہلے انتظامیہ کو شہر میں موجود دیگر غیر قانونی تعمیرات پر بھی یکساں کارروائی کرنی چاہئے۔ 

یہ بھی پڑھئے:مغربی کنارے کے الحاق کے اسرائیلی عزائم کے درمیان فلسطینیوں کو `نئی نَکبہ` کا سامنا: مصطفیٰ برغوثی

اس موقع پر ونچت بہوجن اگھاڑی کے نوجوان قائد سجات امبیڈکر نے کہا کہ الہاس نگر کو آباد کرنے میں غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں نے اہم کردار ادا کیاہے لیکن آج میونسپل کارپوریشن  انہی لوگوں کو بے گھر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے برکاتیہ مسجد کو انہدامی نوٹس جاری کئے جانے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ شہری انتظامیہ فرقہ پرست طاقتوں کے دباؤ میں آکر کارروائی کررہی ہے۔ سجات امبیڈکر نے سوال اٹھایا کہ اگر الہاس نگر میں ہزاروں غیر قانونی عمارتیں اور مختلف مذاہب کی عبادت گاہیں موجود ہیں تو کارروائی کیلئے چند مخصوص مقامات کو ہی کیوں منتخب کیا جارہا ہے؟ انہوں نے شہری انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ قانون کا اطلاق مذہب، ذات یا معاشی حیثیت دیکھ کر نہیں بلکہ سب کیلئے یکساں طور پر کیا جائے۔ 

ا حتجاج کے دوران سجات امبیڈکر نے میونسپل کارپوریشن کے سامنے ۳؍ اہم مطالبات پیش کئے۔ انہوں نے برکاتیہ مسجد، ۳۱ ؍مکانات اور دکانوں کو جاری کئے گئے انہدامی کارروائی کے نوٹس فوری طور پر واپس لینے، الہاس نگر کی تمام غیر قانونی عمارتوں کو یکساں پالیسی کے تحت قانونی حیثیت دینے اور تمام مذاہب کی عبادت گاہوں مندر، مسجد، چرچ، گرودوارہ اور بدھ ویہار کیلئے خصوصی ونڈو قائم کرکے انہیں قانونی دائرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK