مردم شماری، انتخابات، (ایس آئی آر میپنگ) اور بی ایل اوز کی ڈیوٹی جیسے غیر تدریسی سرکاری فرائض انجام دیتے ہوئے جان گنوانے والے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کے اہلِ خانہ کو مالی امداد، ملازمت اور بیمہ تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔
EPAPER
Updated: June 01, 2026, 3:53 PM IST | Khalid Abdul Qaiuum Ansari | Bhiwandi
مردم شماری، انتخابات، (ایس آئی آر میپنگ) اور بی ایل اوز کی ڈیوٹی جیسے غیر تدریسی سرکاری فرائض انجام دیتے ہوئے جان گنوانے والے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کے اہلِ خانہ کو مالی امداد، ملازمت اور بیمہ تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔
مردم شماری، انتخابات، ووٹر رجسٹریشن (ایس آئی آر میپنگ) اور بی ایل اوز کی ڈیوٹی جیسے غیر تدریسی سرکاری فرائض انجام دیتے ہوئے جان گنوانے والے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کے اہلِ خانہ کو مالی امداد، ملازمت اور بیمہ تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ اسی سلسلے میں مہاراشٹر راجیہ شکشن کرانتی سنگٹھن نے تھانےکے ضلع کلکٹر کے توسط سے چیف مردم شماری افسر اور چیف الیکشن آفیسر کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا ہے۔تنظیم کے ریاستی صدر سدھیر گھاگس نے کہا کہ ضلع کلکٹر سے براہِ راست ملاقات ممکن نہیں ہو سکی تاہم میمورنڈم کے ذریعے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ مردم شماری، انتخابی اور ووٹر رجسٹریشن کے فرائض انجام دینے والے اساتذہ اور ملازمین شدید ذہنی دباؤ اور اضافی ذمہ داریوں کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد افسوسناک واقعات رونما ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : پوائی: فکٹ نگر اور ملند نگر میں بی ایم سی کی انہدامی کارروائی
میمورنڈم میں ان اساتذہ اور ملازمین کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانیں گنوائیں۔ ان میں مردم شماری کے کام پر جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہونے والی معلمہ دیپالی تامبے سمیت کولہاپور کے بھگوان پاٹل، سانگولہ کے راجارام ڈھولے اور لاتور کے سندرم وانگسکر شامل ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ دورانِ ڈیوٹی ہلاک ہونے والے اساتذہ اور ملازمین کے اہلِ خانہ کو کم از کم ۵۰؍ لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے، متوفی ملازم کے خاندان کے ایک اہل فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے اور تمام اساتذہ و ملازمین کو جامع بیمہ تحفظ کے دائرے میں شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کو ان کے بنیادی تدریسی فرائض کے علاوہ غیر ضروری غیر تدریسی کاموں کے بوجھ سے نجات دلانے کی بھی مانگ کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : سینٹرل ریلوے: اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ملتوی
تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان مطالبات پر جلد مثبت اور ٹھوس فیصلہ نہیں کیا گیا تو ریاست بھر میں جمہوری اور آئینی طریقے سے ایک وسیع احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔اس موقع پر ریاستی سیکریٹری راجندر گاولی، کونکن ڈویژن سیکریٹری گیانیشور گوساوی، ریاستی عاملہ کے رکن سندیپ کالیکر، راہل پاٹل، لہو کیدار اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔