اجلاس کا وقت صبح ۱۱؍بجے کرنے اور ہر میٹنگ میں ایک گھنٹہ عوامی مسائل پر بحث کیلئے مختص کرنے کی تجویز۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 12:21 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
اجلاس کا وقت صبح ۱۱؍بجے کرنے اور ہر میٹنگ میں ایک گھنٹہ عوامی مسائل پر بحث کیلئے مختص کرنے کی تجویز۔
میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی میٹنگ باقاعدگی سے منعقد نہ ہونے اور اجلاس میں عوامی مسائل پر بحث کیلئے مناسب وقت نہ ملنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ وارڈ نمبر ۱۴؍ (ڈی) کے کارپوریٹر خان عبدالرحمن (صدام) نے میونسپل کمشنر سمیت ریاستی حکومت کے اعلیٰ حکام کو مکتوب روانہ کرکے ہر ماہ جنرل باڈی میٹنگ منعقد کرنے، اجلاس کا وقت سہ پہر ۳؍ بجے کے بجائے صبح ۱۱؍ بجے کرنے اور ہر میٹنگ میں ایک گھنٹہ جنرل ڈسکشن کے لئے مختص کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مکتوب کے مطابق کارپوریشن کی آخری جنرل باڈی میٹنگ ۲۵؍ اگست ۲۰۲۶ء کو منعقد ہوئی تھی جس کے بعد ۳۱؍ اکتوبر تک ستمبر اور اکتوبر میں کوئی عام میٹنگ نہیں بلائی گئی۔ کارپوریٹر نے مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ ۱۹۴۹ء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ماہ کم از کم ایک عام اجلاس منعقد ہونا چاہیے۔ انہوں نے اجلاس نہ بلائے جانے کی وجوہات معلوم کرکے قانونی ضابطوں کے مطابق کارروائی کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کرشی بھون میں مسجد کو مودی سرکار نے ملک کی ’’سیکولر پہچان کے منافی‘‘ قرار دیا
ایجنڈے کے ساتھ عوامی مسائل پر بھی بحث ہو
خان عبدالرحمن کے مطابق جنرل باڈی میٹنگ صرف ایجنڈے کی تجاویز منظور کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ کارپوریٹروں کو اپنے وارڈ کے مسائل پیش کرنے کا بھی مناسب موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ صبح۱۱؍ سے ۱۲؍ بجے تک جنرل ڈسکشن اور دوپہر ۱۲؍بجے سے ایجنڈے پر بحث کی جائے۔ اس دوران پانی کی قلت، صفائی، کچرے کی نکاسی، ڈرینیج، سڑکوں، اسٹریٹ لائٹ، صحت، تعلیم اور خواتین کے تحفظ جیسے مسائل اٹھائے جاسکیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ جنرل ڈسکشن کے لئے الگ وقت مختص ہونے سے نئے اور خاتون کارپوریٹروں کو بھی اپنے وارڈ کے مسائل پیش کرنے کا مناسب موقع ملے گا۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جنرل ڈسکشن میں اٹھائے جانے والے مسائل کو اجلاس کی سرکاری کارروائی میں درج کیا جائے اور متعلقہ محکموں کو مقررہ مدت میں ان پر کی گئی کارروائی کی رپورٹ پیش کرنے کا پابند بنایا جائےتاکہ عوامی مسائل صرف بحث تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے حل کی پیش رفت بھی سامنے آئے۔اس سلسلے میں میونسپل کمشنر، ریاستی محکمہ شہری ترقیات اور ڈائریکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔