زیادہ بجلی نرخ، وِجیلنس کارروائیاں اور مبینہ من مانی پر صارفین برہم،۲۰۲۷ء کے بعد نئی کمپنی لانے کا مطالبہ۔
ٹورینت پاورکمپنی سےبھیونڈی کے شہریو ںمیں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ تصویر:آئی این این
بھیونڈی میں مہنگی بجلی اور پاور سپلائی کمپنی کی مبینہ من مانی کے خلاف عوامی ناراضگی بڑھ گئی ہےجس کے پیش نظر پاورلوم صنعت اور صارفین نے ٹورینٹ پاور کمپنی کے ساتھ۲۵؍ جنوری۲۰۲۷ء کو ختم ہونے والے معاہدہ میں توسیع نہ کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔الزام ہے کہ مہنگی بجلی، صارفین پر وِجیلنس کیسز کی بھرمار اور کمپنی افسران کی مبینہ من مانی نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ شہر کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی پاورلوم صنعت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف ایک شکایت نہیں بلکہ عوامی تحریک کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔بی جے پی بھیونڈی شہر بنکر اگھاڑی اور بھیونڈی پاورلوم مزدور بیم ویورز اینڈ اونرس اسوسی ایشن کے صدر تروپتی سریپورم نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس، رکن پارلیمان سریش مہاترے ،رکن اسمبلی رئیس شیخ،مہیش چوگھلے اور دیگر ذمہ داران کو مکتوب ارسال کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور عوام مزید بوجھ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔مکتوب میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ ٹورینٹ پاور کا معاہدہ اپنی مدت پوری کرنے والا ہے اور یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اگر اس موقع پر حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو نہ صرف عوامی غم و غصہ بڑھے گا بلکہ صنعتی سرگرمیاں بھی مزید متاثر ہوں گی۔
رکن پارلیمنٹ سریش مہاترے کو ان کے انتخابی وعدے بھی یاد دلائے گئے ہیں جس میں انہوں نے عوام کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ٹورینٹ پاور کو بھیونڈی سے ہٹانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے۔ اب عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ وعدہ کس حد تک پورا ہوتا ہےاور وہ کیا اقدام کرتے ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ بجلی سپلائی کرنے والی دیگر نجی کمپنیوں کے مقابلے میں بھیونڈی میں فی یونٹ۳؍ سے۷ء۵۰؍ روپے تک زیادہ وصول کیا جارہا ہےجو سراسر ناانصافی ہے۔ ا نہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی سپلائی کے لیے متبادل کمپنیوں کو بھی موقع دیا جائے تاکہ مسابقت کے ذریعے نرخوں میں کمی ممکن ہو سکے۔اسی سلسلے میں ایک وفد نے رکن اسمبلی رئیس شیخ سے ملاقات کر کے میمورنڈم پیش کیا، جس پر انہوں نے وزارت میں اعلیٰ سطحی میٹنگ کے انعقاد کی یقین دہانی کرائی ہے۔دوسری جانب کمپنی کے ترجمان چیتن بادیانی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی اپنے طور پر نرخ طے نہیں کرتی بلکہ مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ کی ہدایات کے مطابق بل جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ دیگر کمپنیوں سے موازنہ حالات کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ میمورنڈم میں وزیر اعلیٰ کو اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا گیا کہ فرنچائزی طرز پر بجلی سپلائی کرنے والی ٹورینٹ پاور کمپنی کا نرخ دیگر پرائیویٹ کمپنیوں سے زیادہ ہے۔