Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی امیگریشن قوانین: سیاسی نظریات کی بنیاد پر گرین کارڈ کیلئے اسکریننگ کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ

Updated: April 28, 2026, 9:05 PM IST | Washington

امریکی پالیسی میں اس تبدیلی کے ساتھ گرین کارڈ کی منظوریوں میں بھی تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔ ان میں مبینہ طور پر حالیہ مہینوں میں نصف سے بھی زیادہ کمی آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آئینی طور پر محفوظ آزادیِ اظہار کو محدود کرنے کا باعث بن سکتا ہے اور اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کو ’صیہونیت دشمنی‘ کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے گرین کارڈ کیلئے درخواست دینے والے افراد کیلئے جانچ پڑتال کے سخت ترین اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ نئے قوانین کے تحت، حکام کو مخصوص سیاسی نظریات اور فلسطین نواز بیانات کی بنیاد پر مستقل رہائش سے انکار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

امریکی محکمہ داخلہ (ڈی ایچ ایس) کے ذیلی ادارے یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسیز کے حال ہی میں ترمیم شدہ اندرونی مواد میں افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسی تمام سرگرمیوں کو درخواستوں کی جانچ کے دوران بڑے منفی عوامل کے طور پر دیکھیں جنہیں ”امریکی مخالف“ یا ”صیہونیت مخالف“ سمجھا جاتا ہے۔ ان میں فلسطین نواز احتجاجی مظاہروں میں شرکت، اسرائیل پر تنقید پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹس اور امریکی پرچم کی بے حرمتی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ایک مثال میں ایسی پوسٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں ”فلسطین میں اسرائیلی دہشت گردی بند کرو“ لکھا گیا ہو اور ساتھ ہی اسرائیلی پرچم پر کراس لگایا گیا ہو۔

یہ بھی پڑھئے: کیا پینٹاگون نے صحافیوں کی رسائی مکمل طور پر ختم کردی؟

یہ ہدایات صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال جاری کردہ حکم نامہ کے بعد سامنے آئی ہیں جس میں درخواست گزاروں کے نظریاتی موقف کی سخت جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد قومی سلامتی اور ”امریکی اقدار“ کا تحفظ ہے۔ یو ایس سی آئی ایس کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے اس سے قبل قانون سازوں کو بتایا کہ ”امریکہ میں ان غیر ملکیوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے جو امریکی مخالف نظریات کو اپنائیں یا دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کریں۔“

امریکی پالیسی میں اس تبدیلی کے ساتھ گرین کارڈ کی منظوریوں میں بھی تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔ ان میں مبینہ طور پر حالیہ مہینوں میں نصف سے بھی زیادہ کمی آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آئینی طور پر محفوظ آزادیِ اظہار کو محدود کرنے کا باعث بن سکتا ہے اور اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کو ’صیہونیت دشمنی‘ کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امید ہے کہ حماس غیر مسلح ہوجائے گا: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

سابق عہدیدار امانڈا باران نے نظریاتی جانچ پڑتال کو ”بنیادی طور پر غیر امریکی“ قرار دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے ایک ترجمان نے اس طرزِ عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزادیِ اظہار کو محدود کرنے کے بارے میں نہیں بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کے بارے میں ہے۔ انتظامیہ نے جانچ پڑتال کا دائرہ درخواست گزاروں سے آگے بڑھا دیا ہے، جس میں سیاحوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لینے اور فلسطین نواز سرگرمیوں سے وابستہ افراد کے ویزے منسوخ کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پہلے ہی کچھ طالب علم کارکنوں کے ویزے منسوخ کر چکے ہیں۔

نازک جنگ بندی کے دوران امریکی فوجی سرگرمیاں جاری

ان داخلی پالیسی تبدیلیوں کے درمیان، مشرقِ وسطیٰ میں نازک جنگ بندی کے مرحلے کے دوران امریکی فوجی نقل و حرکت جاری ہے۔ قطر کے العبید ایئر بیس پر، جو امریکہ کے زیرِ انتظام اہم فوجی تنصیب ہے، متعدد سی-۱۳۰ ہرکولیس طیاروں کو لینڈ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود کشیدگی برقرار ہے اور ایران کے ساتھ سمندری رسائی اور جوہری تنازعات جیسے مسائل تاحال حل طلب ہیں۔ اس سے قبل ہونے والے سفارتی مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے تھے، حالانکہ عارضی صلح کے انتظامات برقرار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ و اسرائیل پر جارحیت کا الزام، حملو ں کے خلاف ضمانت کا مطالبہ

امریکی جنگی جہاز نے ناکہ بندی کے تحت ٹینکر کو روک لیا

ایک متعلقہ پیش رفت میں، امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے خام تیل کے ایک ٹینکر کو ایرانی بندرگاہ کی طرف جانے کی کوشش کے دوران روک لیا۔ بیان کے مطابق، گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائر یو ایس ایس رافیل پرالٹا (ڈی ڈی جی ۱۱۵) نے جاری ناکہ بندی کے تحت نفاذ کی کارروائیوں کے طور پر M/T Stream نامی جہاز کو روکا۔ یہ واقعہ جاری سمندری پابندیوں اور نفاذ کے اقدامات کو اجاگر کرتا ہے۔ سفارتی کوششیں اب بھی غیر یقینی ہیں اور وسیع تر کشیدگی برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK