ہندوستان نے معاہدے کے پہلے ہی دن ۱۴؍کروڑ ڈالر کا سامان بھیجا،الیکٹرانکس، فارماسیوٹیکلز، جواہرات اور زیورات وغیرہ برطانیہ روانہ۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 11:30 AM IST | New Delhi
ہندوستان نے معاہدے کے پہلے ہی دن ۱۴؍کروڑ ڈالر کا سامان بھیجا،الیکٹرانکس، فارماسیوٹیکلز، جواہرات اور زیورات وغیرہ برطانیہ روانہ۔
ہندوستان-برطانیہ جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدہ نافذ ہوگیا ہے اور معاہدہ نافذہوتے ہی ہندوستان کی تقریباً۹۹؍ فیصد برآمدات کو برطانیہ کے بازار میں صفر ڈیوٹی رسائی کی سہولت ملنے لگی ہے۔ پہلے ہی دن۲۰؍ سے زیادہ بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، آئی سی ڈی، ایس ای زیڈ اور کارخانوں سے۵۰؍ سے زیادہ برآمدی کھیپوں کو روانہ کیا گیا۔ یہ سامان جموں، چنئی، حیدرآباد، ممبئی، نوئیڈا، دہلی اور کوئمبٹور وغیرہ شہروں سے بھیجا گیا۔ پہلے دن۱۴۰؍ ملین امریکی ڈالر سے زیادہ مالیت کی برآمدات کی گئیں۔ الیکٹرانکس، فارماسیوٹیکلز، جواہرات اور زیورات سمیت متعدد مصنوعات کی کھیپیں مندرا، نہاوا شیوا، چنئی، ممبئی، کولکاتا اور حیدرآباد سے برطانیہ کے لئے روانہ کی گئیں۔
امریکی عدالت میں اڈانی کاحلف نامہ،۱۰؍بلین ڈالرکی سرمایہ کاری کی پیشکش کی گئی تھی
جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے اور سماجی تحفظ کے معاہدے کے نفاذ پر نئی دہلی کے کامرس بلڈنگ میں افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت راجیش اگروال نے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ معاہدے سے۲۰۳۰ء تک باہمی تجارت کو۱۰۰؍ ارب ڈالر تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ معاہدے کے نافذ ہونے کے پہلے ہی دن سے مختلف شعبوں کے برآمد کنندگان نے ڈیوٹی میں چھوٹ کا فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اس معاہدے سے ملنے والے مواقع کو برآمد کنندگان اور کاروباریوں تک پہنچایا جائے گا۔ اس کے لئے محکمہ تجارت ملک کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر بیداری مہم منعقد کرے گا۔ وزارت برآمدات کے فروغ کی کونسلوں، صنعتی تنظیموں اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر بیداری پھیلائے گی تاکہ ہر سطح کے کاروبار کم ڈیوٹی کا فائدہ اٹھا کر برطانیہ کو اپنی برآمدات بڑھا سکیں۔
برطانیہ کی جانب سے مارچ میں نافذ کئےگئے اسٹیل حفاظتی اقدامات ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ نافذ ہونے میں بڑی رکاوٹ بن گئے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل اور کئی سطحوں پر ہونے والی بات چیت کے بعد اس مسئلے کا حل نکالا گیا اور تجارتی معاہدہ ۱۵؍جولائی سے نافذ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی اسٹیل انڈسٹری کو بڑا فائدہ ملا ہے۔ اب ہندوستانی برآمد کنندگان ہر سال۱۱؍لاکھ ٹن سے زیادہ اسٹیل بغیر کسی امپورٹ ڈیوٹی کے برطانیہ بھیج سکیں گے۔ یہ سہولت ملک کے لئے مخصوص کوٹہ اور مجاز استعمال کی اسکیم کے تحت دستیاب ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: آر بی آئی نے فیما خلاف ورزی کے معاملے میں ایپوتھیکون فارماسیوٹیکلز کو راحت دی
کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے ڈائریکٹر جنرل چندرجیت بنرجی نے کہا کہ اس معاہدے سے ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑا اور جوتے، جواہرات اور زیورات، سمندری مصنوعات اور پروسیس شدہ غذا جیسے زیادہ لیبر والے شعبوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ دوسری طرف ’فکی‘ کے صدر اننت گوئنکا نے کہا کہ یہ معاہدہ ’وکست بھارت‘ کے ہدف کو مضبوط کرے گا۔ اس سے ملک کی اقتصادی ترقی، عالمی مسابقت اور بین الاقوامی بازاروں میں شراکت داری بڑھے گی۔
ہندوستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر لنڈی کیمرون نے تجارتی معاہدے کو دونوں ممالک کی جدید شراکت داری کا ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ کیمرون نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ کی وہسکی پر امپورٹ ڈیوٹی۱۵۰؍ فیصد سے گھٹ کر۷۵؍ فیصد ہو گئی ہے اور مستقبل میں اسے مزید کم کیا جائے گا۔ برطانیہ میں بننے والی پریمیم کاروں پر بھی امپورٹ ڈیوٹی مرحلہ وار طریقے سے کم کی جائے گی۔ میئر ڈیم سوسن لینگلی نے بھی اس تجارتی معاہدے کو دونوں ممالک کے لئے ایک تاریخی قدم قرار دیا۔جنوبی ایشیا کے لئے برطانیہ کے تجارتی کمشنر اور ہندوستان-برطانیہ ایف ٹی اے کے چیف مذاکرات کار رہے ہرجندر کانگ نے کہا کہ برطانیہ کی سیاست میں ممکنہ تبدیلیوں کے باوجود ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں مثبت سوچ برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم بھی ہندوستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے حامی ہیں۔ برنہم وزیراعظم کے عہدے کے مضبوط دعویدار ہیں۔