سال بھر گھر کا خرچ چلانے اور اگلے سیزن کی کھیتی کے لئے رقم کا انتظام کرنا مشکل، بارش کے طویل وقفے سے ابتدا میں دھان کے پودے تیار کرنے اور انہیں کھیتوں میں لگانے میں دشواری ہوئی، فصل تیاری کے وقت بھی پانی نہیں مل سکا۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 10:59 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
سال بھر گھر کا خرچ چلانے اور اگلے سیزن کی کھیتی کے لئے رقم کا انتظام کرنا مشکل، بارش کے طویل وقفے سے ابتدا میں دھان کے پودے تیار کرنے اور انہیں کھیتوں میں لگانے میں دشواری ہوئی، فصل تیاری کے وقت بھی پانی نہیں مل سکا۔
بارش کے طویل وقفے نے بھیونڈی تعلقہ کے دھان کی کھیتی کرنے والے کسانوں کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ اس سال تعلقہ میں۱۶؍ ہزار۲۲۱؍ ہیکٹر زمین پر دھان کی کاشت کی گئی ہے لیکن بارش وقت پر نہ ہونے اور درمیان میں طویل وقفہ آنے سے فصل متاثر ہوئی ہے۔ کسانوں کو خدشہ ہے کہ اس بار پیداوار کم ہوگی۔ ایسے میں ان کے سامنے نہ صرف سال بھر گھر کا خرچ چلانے بلکہ اگلے سیزن کی کھیتی کے لئے رقم جمع کرنے کا مسئلہ بھی کھڑا ہوگیا ہے۔
جون میں ۲۳؍ دن بارش نہیں ہوئی
بھیونڈی تعلقہ کے بیشتر کسان بارش پر انحصار کرکے کھیتی کرتے ہیں۔ اس سال جون میں یکم سے۲۳؍ جون تک تقریباً ۲۳؍ دن بارش نہیں ہوئی۔ اسی طرح ستمبر کے آخری ہفتے سے اکتوبر کے وسط تک بھی تقریباً۲۳؍ سے۲۴؍ دن بارش کا وقفہ رہا۔ بارش کے طویل وقفے سے ابتدا میں دھان کے پودے تیار کرنے اور انہیں کھیتوں میں لگانے کا عمل متاثر ہوا جبکہ بعد میں بالیوں میں دانے بھرنے کے مرحلے میں بھی فصل کو مناسب پانی نہیں مل سکا۔
تین طرح کے دھان کی کاشت
تعلقہ میں دھان کی تین اہم اقسام کی کاشت کی گئی ہے۔ ہلوا دھان تقریباً۴؍ ہزار۸۶۶؍ ہیکٹر، نیم گروہ دھان۷؍ ہزار۲۹۹؍ ہیکٹر اور گروہ دھان تقریباً ۴؍ہزار۵۵؍ہیکٹر زمین پر لگایا گیا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ رقبے پر نیم گروہ دھان کی کاشت ہوئی ہے۔ بارش کے طویل وقفے سے تینوں اقسام کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تیز آوازمیں گفتگو یا گانا سننے پر سخت کارروائی کا انتباہ
کھیتی کا خرچ نکالنا مشکل
کسانوں کا کہنا ہے کہ بیج، کھاد، زمین کی جتائی، مزدوری اور پنیری لگانے پر پہلے ہی بڑی رقم خرچ ہوچکی ہے۔ اگر پیداوار کم ہوئی تو کھیتی پر لگائی گئی رقم نکالنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ اسی فصل کی آمدنی سے سال بھر خاندان کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ اب کسانوں کو گھر کے اخراجات اور اگلے سیزن کی کھیتی کے لئے رقم کا انتظام کرنے کی فکر ستانے لگی ہے۔
خاتون کسان نے حکومت سے مدد مانگی
خاتون کسان دروپدی پاٹل نے حکومت سے فوری مالی مدد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسان پوری امید کے ساتھ کھیتی میں محنت اور پیسہ لگاتے ہیں لیکن بارش کی بے رخی سے ان کی محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔ ان کے مطابق فصل متاثر ہونے سے خاندان کی روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔
فوری سروے کرائے جائیں
کسانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فصلوں کے نقصان کا فوری سروے کرائے اور متاثرہ کسانوں کو مناسب مالی امداد دے، تاکہ وہ اپنے خاندان کا خرچ چلا سکیں اور اگلے سیزن کی کھیتی کی تیاری بھی کرسکیں۔ اب کسانوں کی نظریں حکومت کی جانب لگی ہیں کہ انہیں کب اور کتنی راحت ملتی ہے؟