• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان: بھیماشنکر کے جنگل میں درختوں کی کٹائی کیخلاف دستخطی مہم

Updated: October 28, 2026, 11:14 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

مجوزہ پاور پروجیکٹ کے خلاف عوامی غم و غصہ عروج پر،بڑی تعداد میں شہریوں نے دستخط کرکے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔

Citizens expressing their displeasure over the felling of trees. Photo: INN
درختوں کی کٹائی کے خلاف شہری اپنی ناراضگی درج کراتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

بھیماشنکر کے گھنے اور قدرتی جنگل میں مجوزہ پاور پروجیکٹ کیلئے ہزاروں درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی کے حکومتی اقدام نے ریاست بھر کے ماحولیاتی حلقوں اور باشعور شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے پیشِ نظر شجرکاری کی ترغیب دی جا رہی ہے تودوسری جانب مبینہ ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں راتوں رات صدیوں پرانے سرسبز اثاثوں کا صفایا کیا جا رہا ہے۔اس غیر منصوبہ بند کٹوتی کے خلاف ماحولیات کے تحفظ کے لئے سرگرم کارکنوں اور مقامی سماجی تنظیموں نے مشترکہ محاذ کھولتے ہوئے احتجاجی دستخطی مہم شروع کر دی ہے جس کو شہریوں کی بھرپور حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ بھیماشنکر کے جنگل میں پاور پروجیکٹ کے تحت درختوں کی کٹائی کی چہار جانب سے مذمت کی جارہی ہے۔اس سلسلے میں عوامی شعور بیدار کرنے کیلئے کلیان مشرق ریلوے اسٹیشن اور کولسے واڑی رکشا اسٹینڈ کے قریب ایک بڑی دستخطی مہم شروع کی گئی۔پیر کے روز شروع ہونے والی اس مہم کے ابتدائی ۲؍ گھنٹوں کے دوران ہی ۱۵۰۰ ؍سے زیادہ شہریوں نے دستخط کر کے کٹائی کے خلاف اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر: عرضی گزاروں کو کمیشن کے حلف نامہ پر جواب دینے کیلئے مہلت

سہیوگ نام کی تنظیم کے صدر وجے بھوسلے نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھیماشنکر کے یہ درخت حکومت کے لگائے ہوئے نہیں بلکہ قدرت کے اپنے نظام کے تحت صدیوں میں پروان چڑھے ہیں جو سہیادری کے پہاڑی سلسلے اور مہاراشٹر کی اصل شان ہیں۔انہوں نے متنبہ کیا کہ ان پرانے درختوں کے خاتمے سے پورا حیاتیاتی تنوع درہم برہم ہو جائے گا اور ان گنت نایاب پرندوں و جنگلی جانوروں کے مسکن ہمیشہ کیلئے مٹ جائیں گے۔

وجے بھوسلے نے سرکاری بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ حکومت کا یہ دعویٰ کہ ۹۰ ؍ہزار نئے درخت لگائے جائیں گے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ممبئی۔ناگپور سمردھی ہائی وے کی تعمیر کے وقت بھی لاکھوں درخت کٹوا دئیے گئے تھے لیکن اس کے بدلے میں اعلان کردہ گرین بیلٹ کا منصوبہ آج تک صرف کاغذوں تک محدود ہے۔انہوں نے کہا کہ گوا اور شکتی پیٹھ ہائی وے کے نام پر بھی درختوں کی بے تحاشہ کٹائی جاری ہے۔ اگر حکومت پودوں کی پرورش اور تحفظ کا عملی ثبوت نہیں دے سکتی تو اسے سرسبز جنگلات کاٹنے کا بھی کوئی حق نہیں۔

اسٹڈی وے تنظیم کے سربراہ اماکانت نے واضح کیا کہ یہ لڑائی صرف دستخطوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اگلا بڑا احتجاج براہِ راست بھیماشنکر کے جنگل میں منظم کیا جائے گا۔ ادھر عام آدمی پارٹی کے کلیان اور ڈومبیولی کے صدر ایڈووکیٹ دھننجے جوگ دنڈ نے سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ درختوں کی یہ کٹائی عوام کیلئے نہیں بلکہ ٹھیکیداروں کے مالی فائدے کیلئے کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگل کاٹ کر کی جانے والی نام نہاد ترقی درحقیقت ماحولیاتی بربادی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK