۴؍ ہوٹل اور فوڈ اسٹال کو کاروبار بند کرنے کانوٹس ، ۹؍مقامات سے غذائی اشیاء کے نمونے لئے، غیر قانونی و غیر معیاری کاروبار کیخلاف کارروائی کا انتباہ۔
گزشتہ دنوں ایک ہوٹل سے شاورما اور پزا کھانے سے ۱۰۰؍سے زائد افراد بیمار ہوگئے تھے-تصویر:آئی این این
حالیہ فوڈ پوائزننگ واقعے کے بعد فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے بھیونڈی میں ہوٹلوں، شاورما سینٹروں، چائنیز فوڈ اسٹالوں اور سڑک کنارے قائم کھانے پینے کے مراکز کے خلاف خصوصی مہم شروع کر دی ہے۔ اتوار کی رات ایف ڈی اے کی ٹیم نے شہر کے مختلف علاقوں میں اچانک معائنہ مہم چلاتے ہوئے متعدد تجارتی مراکز کی جانچ کی اور غذائی اشیاء کے نمونے حاصل کئے۔ اس دوران ضابطوں کی خلاف ورزی اور غیر اطمینان بخش حالات پائے جانے پر ۴؍ہوٹلوں اور فوڈ اسٹالوں کو فوری طور پر کاروبار بند کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا۔
ایف ڈی اے کی کارروائی کی اطلاع ملتے ہی شہر کے متعدد علاقوں میں سڑک کنارے کھانے پینے کے اسٹال لگانے والے دکاندار دکان بند کر کے غائب ہوگئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی صحت کے تحفظ کیلئے کسی بھی قسم کی لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔معائنہ مہم کے دوران غیبی نگر میں واقع ’’بابا شاورما‘‘ مرکز سے بھی چکن، شاورما بیس، ٹماٹو ساس اور دیگر غذائی اشیاء کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری جانچ کیلئے روانہ کئے گئے۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔تھانے ایف ڈی اے کے اسسٹنٹ کمشنر سنتوش سیروسیا نے بتایا کہ مہم کے دوران ۹؍ ہوٹلوں اور فوڈ اسٹالوں سے مختلف غذائی اشیاء کے نمونے حاصل کئے گئے ہیں جبکہ ۶؍سرویلنس نمونے بھی لیبارٹری جانچ کیلئے بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر معیاری خوراک فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایف ڈی اے ایک جامع اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) تیار کر رہا ہے جس میں بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کو بھی شامل کیا جائے گا۔ اس کے تحت بغیر لائسنس اور غیر قانونی طور پر سڑکوں پر کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جائے گی۔ایف ڈی اے کے مطابق رات گئے تک کھلے رہنے والے ہوٹلوں اور فاسٹ فوڈ مراکز پر بھی خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔ اگر کسی مقام پر غذائی تحفظ کے اصولوں کی خلاف ورزی، صفائی کی ناقص صورتحال یا غیر معیاری خوراک کی فروخت پائی گئی تو متعلقہ افراد کے خلاف فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔