غلط اندراج اور جائیدادی تنازعات کے حل سے مزید اضافہ ممکن،۱۳۰۰؍ جائیدادوں کو ضبط کرنے کے نوٹس جاری کئے گئے اور۵۱۴۲؍ پانی کے کنکشن منقطع کیے گئے جس کے نتیجے میں بقایا جات کی وصولی میں نمایاں اضافہ ہوا، میئر نارائن چودھری کا آئندہ بقایا جات کو کم سے کم سطح تک لانے کا عزم۔
بھیونڈی کا رپوریشن۔ تصویر:آئی این این
میونسپل کارپوریشن نے مالی سال ۲۶-۲۰۲۵ء میں ۱۰۳ء۳۱؍کروڑ روپے کی ریکارڈ ٹیکس وصولی درج کی جو گزشتہ ۳؍ برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ میونسپل کمشنر انمول ساگر کی قیادت میں ایڈیشنل کمشنر نینا سسانے، ڈپٹی کمشنر (محصولات) بالکرشن شیرساگر، اسسٹنٹ کمشنر نتن پاٹل اور محکمہ ٹیکس کے سربراہ سدھیر گرو سمیت ٹیم کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہوا اور انہیں کی مؤثر حکمت ِ عملی و سخت اقدامات کے سبب یہ کارنامہ ممکن ہوسکا ہے۔
تاہم شہریوں کے مطابق غلط اندراج اور جائیدادی تنازعات کے حل سے اس میں مزید اضافہ ممکن ہے۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال ۲۳-۲۰۲۲ء، میں ۹۱ء۳۷؍ کروڑ، ۲۴- ۲۰۲۳ء میں ۷۹ء۱۵ ؍ کروڑ اور ۲۵-۲۰۲۴ء میں۸۷ء۵۴؍کروڑ روپے کی وصولی ہوئی تھی جبکہ موجودہ سال میں یہ رقم بڑھ کر۱۰۳ء۳۱؍ کروڑ تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۱۵ء۸۰؍ کروڑ روپے زیادہ ہے۔ کارپوریشن کے عوامی رابطہ افسر شریکانت پردیسی نے بتایا کہ محکمہ محصولات کی جانب سے جاری سخت کارروائیوں کے تحت۱۳۰۰؍ جائیدادوں کو ضبط کرنے کے نوٹس جاری کئے گئے اور۵۱۴۲؍ پانی کے کنکشن منقطع کیے گئے جس کے نتیجے میں بقایا جات کی وصولی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی جغرافیائی معلوماتی نظام (جی اءی ایس ) سروے مہم بھی تیزی سے جاری ہے اور اب تک۱۲؍ ہزار ۹۳۵؍ جائیدا دوں کا اندراج مکمل کیا جا چکا ہے جس سے مستقبل میں ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔اگرچہ اس کامیابی پر انتظامیہ کی ستائش کی جارہی ہے مگر شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر ذمہ دار شہری ٹیکس ادا کرنا چاہتا ہے لیکن جائیدادوں کے غلط اندراج، ریکارڈ کی خامیوں اور ملکیت کے تنازعات کی وجہ سے مشکلات پیش آتی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر انتظامیہ ان مسائل کے حل میں سنجیدہ اور مثبت کردار ادا کرے تو ٹیکس وصولی میں مزید خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔میئر نارائن چودھری نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بروقت ٹیکس ادا کریں اور شہر کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، جبکہ انتظامیہ نے بھی آئندہ بقایا جات کو کم سے کم سطح تک لانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔