گٹروں کی صفائی سے متعلق پروجیکٹ پر ۲۰۰۱ء سے کنیڈا کی ۲؍ کمپنیوں کے ساتھ چلے آرہے تنازع میں بی ایم سی نے اضافی کروڑوں روپے دینے کو منظوری دے دی۔
بوریولی میں بی ایم سی کی جانب سے گٹر کی صفائی کی جارہی ہے۔ تصویر: انقلاب، ستیج شندے
’برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن‘ (بی ایم سی) کی نااہلی کی وجہ سے منگل، ۱۵؍ ستمبر کو بی ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں گٹروں کی صفائی کے تقریباً ۲۵؍ برس پرانے پروجیکٹ میں کنیڈا کی ۲؍ کمپنیوں کو واجب الادا فیس کے تنازع میں اضافی کروڑوں روپے کی ادائیگی کی تجویز کو منظوری دے دی گئی۔ یہ رقم ممبئی واسیوں کے ٹیکس کے پیسوں سے ادا کی جائے گی۔ ابتداء سے فیصلہ اپنے خلاف آنے کے باوجود بی ایم سی افسران اور قانونی ماہرین کے مشورے پر قانونی لڑائی جاری رکھی گئی اور اب ڈالر کی قدر میں اضافہ اور اتنے برسوں کے سود کے ساتھ کئی کروڑ روپے اضافی ادا کرنے ہوں گے۔
معاملہ یہ ہے کہ ممبئی میں گٹروں کے سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے کنیڈا کی کمپنیوں آر وی اینڈرسن اسوسی ایٹس اور اس کی شراکت دار کمپنی کو بطور مشیر منتخب کیا گیا تھا۔ ۲۰؍ جون ۲۰۰۱ء کو کمپنی نے بی ایم سی کو اپنی رپورٹ سونپ دی تھی۔ تاہم ان کمپنیوں نے جو رقم طلب کی تھی اس پر بی ایم سی پوری طرح متفق نہیں تھی اور کچھ رقم ادا کرنے سے انکار کردیا۔ اس تنازع کی وجہ سے یہ معاملہ ’آربیٹریری ٹریبیونل‘ کے سامنے گیا اور ۵؍ جون ۲۰۱۰ء کو ۳؍ رکنی ٹریبیونل نے نہ صرف کنیڈا کی کمپنیوں کے حق میں فیصلہ سنایا بلکہ بی ایم سی کو یہ حکم بھی دیا کہ اس رقم میں سے ۲؍ لاکھ ۷۸؍ ہزار سےزائد رقم امریکی ڈالر میں اور ۱۴؍ لاکھ ۷۶؍ ہزار روپے سے زائد رقم ہندوستانی کرنسی میں ادا کی جائے۔ اس کے علاوہ ۱۶؍ جون ۲۰۰۴ء سے ان کمپنیوں کو متذکرہ رقم پر سالانہ ۱۴؍ فیصد سود بھی ادا کیا جائے۔
ٹریبیونل کا فیصلہ اپنے خلاف آنے کے بعد بی ایم سی نے اس فیصلہ کو ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ اور پھر اس پر ریویو پٹیشن داخل کی جس پر ۲۰۲۶ءمیں سپریم کورٹ نے بھی متذکرہ کمپنیوں کے حق میں فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ بی ایم سی کو ٹریبیونل پر اعتراض کرنے کیلئے ابتدائی مرحلے میں موقع ملا تھا لیکن انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جو ان کے خلاف فیصلہ سنانے کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بی ایم سی کے پاس پیسہ ادا کردینے کےسوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔ تاہم ڈالر کی قیمت بڑھنے اور ۲۰۰۴ء سے ۱۴؍ فیصد سود کی وجہ سے کروڑوں روپے زائد ادا کرنے ہوں گے اس لئے منگل کو اس زائد رقم کی منظوری کی تجویز اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں پیش کی گئی تو اپوزیشن نے اس پر شدید ہنگامہ کیا اور اس تنازع کے تعلق سے متعدد سوالات کرکے مختلف تفصیلات طلب کی ہیں۔
اپوزیشن کا سوال
کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی نے سوال کیا کہ جن بی ایم سی افسران اور قانونی ماہرین نے لگاتار قانونی لڑائی جاری رکھنے کا مشورہ دیا تھا ان کے نام ظاہر کئے جائیں۔ ان افسران نے کیا تحریری مشورہ دیا تھا، کیا انہوں نے زیادہ مدت تک کیس التواء میں رہنے پر ۱۴؍ فیصد سود کی رقم اور زرمبادلہ بڑھنے کو دھیان میں رکھ کر مشورہ دیا تھا؟ ان کے تمام تحریری مشوروں اور فائلوں کی کاپیاں اپوزیشن کو مہیاکرائی جائیں۔ مزید یہ کہ جو تجویز منظوری کیلئے پیش کی گئی تھی اس میں حتمی رقم نہیں بتائی گئی ہے کہ کتنا زیادہ پیسہ ادا کرنا ہوگا اس میں صرف اصل رقم اور سود کا فیصد بتایا گیا ہے تو بڑھی ہوئی رقم بھی بتائی جائے۔ایسے مزید کتنے معاملات عدالت میںالتواء میں ہیں جن میں غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ تنازع چل رہا ہے، ان معاملات میں غیرملکی کرنسی میں رقم ادا کرنی ہوگی ،ان سب کی تفصیلات مہیا کرائی جائیں۔