سڑکیں ٹریفک کے بڑھتے دباؤ سے بے حال،انجور پھاٹا، مانکولی ، پمپلاس اور راجنولی ناکہ پر روزانہ جام۔
EPAPER
Updated: September 14, 2026, 11:16 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
سڑکیں ٹریفک کے بڑھتے دباؤ سے بے حال،انجور پھاٹا، مانکولی ، پمپلاس اور راجنولی ناکہ پر روزانہ جام۔
گوداموں اور لاجسٹک سرگرمیوں کے تیزی سے پھیلاؤ نے شہر و مضافات کو اہم تجارتی مرکز بنا دیا ہے، لیکن سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ بڑھتے ٹریفک کا بوجھ اٹھانے سے قاصر نظر آریا ہے۔ بھاری گاڑیوں کی مسلسل آمدورفت، گڑھے، تنگ پل، زیر تعمیر منصوبے اور مؤثر ٹریفک منصوبہ بندی کے فقدان نے کئی علاقوں میں چند منٹ کے سفر کو گھنٹوں میں تبدیل کردیا ہے۔
انجور پھاٹا سے منکولی تک بحران
چنچوٹی-انجور پھاٹا سے مانکولی تک سڑک کی تعمیر کے باعث کئی مقامات پر راستہ محدود ہوگیا ہے۔ گجرات سے آنے والے ٹرک اور کنٹینر اسی راستے سے ممبئی کی جانب جاتے ہیں، جس کے باعث انجور پھاٹا پر طویل قطاریں لگتی ہیں۔ ریلوے لائن کے نیچے تنگ راستہ معمولی رکاوٹ کو بھی کئی کلومیٹر کے جام میں بدل دیتا ہے۔ راہنال، پورنا، کوپر، کالہیر اور کشیلی کے گوداموں نے بھی ٹریفک کا دباؤ بڑھایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کولکاتا:۵۰؍ واں کتاب میلہ، وندے ماترم کا۱۵۰؍ سالہ جشن، اسرائیل تھیم ملک
پمپلاس فلائی اوور بھی رکاوٹ
ممبئی۔ناسک ہائی وے پر زیر تعمیر پمپلاس فلائی اوور کے قریب سڑک محدود ہونے سے گاڑیوں کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ انتہائی مصروف اوقات میں یہاں سے شروع ہونے والا دباؤ کئی کلومیٹر تک پھیل جاتا ہے۔
راجنولی ناکہ پر ۴؍ سمتوں کا دباؤ
راجنولی ناکہ پر کلیان، ناسک، تھانے اور بھیونڈی سے آنے والی ٹریفک جمع ہونے سے جام کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ گَوے ناکہ سے کونگاؤں کریک برج تک بھی ساراولی ایم آئی ڈی سی کی جانب جانے والی گاڑیوں اور سڑک کی محدود چوڑائی کے باعث ٹریفک متاثر رہتی ہے۔
شہر کی سڑکیں بھی دباؤ میں
ایس ٹی ڈپو، ونجار پٹی ناکہ، دھامنکر ناکہ اور کلیان ناکہ سمیت اندرونی سڑکوں پر بھی گڑھوں اور بھاری ٹریفک نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ صبح و شام شہریوں، طلبہ اور تاجروں کو خاص پریشانی کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بلڈوزر کارروائی سے این ایس اے تک جسٹس اتل شری دھرن نے کئی قابل قدر فیصلے سنائے
گڑھے فوری مسئلہ، منصوبہ بندی مستقل حل
میونسپل کارپوریشن کے سٹی انجینئر جمیل پٹیل کے مطابق اہم سڑکوں کے گڑھے بھرنے کی تیاری مکمل ہے اور ایک دو دن میں کام شروع ہوگا۔ تاہم شہریوں کا مطالبہ ہے کہ مستقل حل کیلئے بھاری گاڑیوں کے متبادل راستے، سڑکوں اور پلوں کی توسیع، زیر التوا منصوبوں کی جلد تکمیل اور جامع ٹریفک مینجمنٹ پلان تیار کیا جائے۔ بھیونڈی کی معاشی ترقی کے ساتھ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اب ناگزیر ہوگیا ہے۔