اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ انہوں نے سیلاب کے تعلق سے وزیر اعلیٰ ، نائب وزیر اعلیٰ اوروزیر اعظم کو خطوط لکھے لیکن کسی خط کا کوئی جواب نہیں ملا۔
EPAPER
Updated: September 14, 2026, 11:29 AM IST | Agency | Patna
اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ انہوں نے سیلاب کے تعلق سے وزیر اعلیٰ ، نائب وزیر اعلیٰ اوروزیر اعظم کو خطوط لکھے لیکن کسی خط کا کوئی جواب نہیں ملا۔
بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اتوار کو ریاست میں سیلاب کی سنگین صورتحال پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بہار سیلاب کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس ریاست کی صورتحال کے بارے میں پوچھنے کا وقت نہیں ہے۔ تیجسوی یادو نے خبروں کے تراشے دکھا کر دعویٰ کیا کہ بہار میں۴۵؍ لاکھ سے زیادہ لوگ سیلاب سے متاثر ہیں لیکن حکومت اس سنگین بحران کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔پٹنہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ انہوں نے سیلاب، راگھوپور میں کٹاؤ اور دیگر مسائل کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کو خطوط لکھے، لیکن کسی خط کا جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جواب دے یا نہ دے، لیکن عوام نے اسے مینڈیٹ دیا ہے تو اسے عوام کی مشکلات دور کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: مٹھائیوں میں مصنوعی رنگوں کے استعمال میں کمی
تیجسوی یادو نے کہا کہ آر جے ڈی نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر بہار کے سیلاب کو قومی آفت قرار دینے، خصوصی مالی پیکیج دینے اور فوج، فضائیہ و ہیلی کاپٹروں کی مدد سے متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان پہنچانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے مطابق، اب تک مرکز کی جانب سے کوئی ٹھوس کارروائی سامنے نہیں آئی ہے۔انہوں نے بہار سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزرا اور این ڈی اے کے اراکین پارلیمنٹ کو بھی نشانہ بنایا۔ تیجسوی نے کہا کہ بہار سے این ڈی اے کے ۳۰؍ سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ اور کئی مرکزی وزرا ہیں لیکن وہ مرکز سے ریاست کے لیے خصوصی امداد حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کولکاتا:۵۰؍ واں کتاب میلہ، وندے ماترم کا۱۵۰؍ سالہ جشن، اسرائیل تھیم ملک
انہوں نےکاغذات دکھائے ا ور گجرات میں شدید بارش اور سیلاب کے دوران مرکزی حکومت کی سرگرمی کا حوالہ دیتے ہوئے بہار کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ گجرات میں بارش کے بعد وزیر اعظم وزیر اعلیٰ سے بات کرتے ہیں اور امداد کا اعلان ہوتا ہے لیکن بہار میں لاکھوں افراد کے متاثر ہونے کے باوجود اسی سطح کی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔آر جے ڈی لیڈر نے ریاستی حکومت پر مالی بدانتظامی کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آفت سے عین قبل ہنگامی فنڈ سے تقریباً ۴؍ ہزار کروڑ روپے نکال کر عام اسکیموں اور پنشن پر خرچ کئے گئے۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ سرکاری خزانے پر پہلا حق آفت زدگان کا ہے اور سوال کیا کہ اب اس اصول کا کیا ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر: وی وی ایس لکشمن، مہیش بابو، راجامولی کو الیکشن کمیشن کا نوٹس!
تیجسوی نے کہا کہ کئی علاقوں میں اب بھی پانی جمع ہے، لوگ بجلی کے بغیر رہنے پر مجبور ہیں اور امدادی انتظامات کے حوالے سے شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کا کام عوام کی تکلیف حکومت کے سامنے رکھنا ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر راحت اور بچاؤ کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار کے مسائل محض بیان بازی سے حل نہیں ہوں گے۔ حکومت کو سیلاب متاثرین کے لیے فوری امداد، مناسب وسائل اور مستقل حل کی سمت میں مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
امیت شاہ نے ۵؍ سال مانگے تھے!
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ گزشتہ سال بہار انتخابات کے دوران وزیر داخلہ امیت شاہ نے بہار کےعوام سے کہا تھا کہ انہیں مزید پانچ سال دیں جس کے بعد سیلاب کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے انہیں نوازا، سیلاب آیا لیکن وزیر داخلہ نے ان پر کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران، بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں کے تمام وزرائے اعلیٰ ووٹ مانگنے آئے، لیکن بحران کی اس گھڑی میں کوئی نظر نہیں آیا۔