Updated: May 14, 2026, 1:37 PM IST
| Washington
امریکی کانگریس کے غیر جانب دار بجٹ دفتر نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے مجوزہ میزائل دفاعی منصوبے ’’گولڈن ڈوم‘‘ پر آئندہ دو دہائیوں میں ۱۲۰۰؍ ارب ڈالر تک خرچ آ سکتا ہے۔ یہ تخمینہ وہائٹ ہاؤس کے پہلے پیش کردہ اندازوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ منصوبے میں خلائی نگرانی، جدید انٹرسیپٹر سسٹمز اور کئی سطحوں پر مشتمل میزائل دفاعی ڈھال شامل ہوگی۔
گولڈن ڈوم۔ تسویر: آئی این این
امریکی کانگریس کے غیر جانب دار بجٹ دفتر نے ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے مجوزہ میزائل دفاعی منصوبے ’’گولڈن ڈوم‘‘ کی لاگت آئندہ ۲۰؍ برسوں میں ۱۲۰۰؍ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو ابتدائی حکومتی تخمینوں سے کہیں زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت امریکہ ایک جدید، کثیر تہہ میزائل دفاعی نظام تیار کرنا چاہتا ہے جو بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں، جدید فضائی حملوں اور ممکنہ خلائی خطرات کا مقابلہ کر سکے۔ کانگریس کے بجٹ دفتر کے مطابق منصوبے پر ایک ہزار ارب ڈالر سے زیادہ صرف خریداری اور تنصیب کے مرحلے پر خرچ ہونے کا امکان ہے۔ اس میں میزائل روکنے والے جدید انٹرسیپٹرز، پیشگی انتباہی ریڈار، خلائی نگرانی کے نظام اور کمانڈ اینڈ کنٹرول انفراسٹرکچر شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے : ٹرمپ نے ایران اور آبنائے ہرمز پر ’کنٹرول‘ کا دعویٰ کیا، امریکیوں کی معاشی تکالیف کو نظر انداز کیا
رپورٹ میں خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ خلائی انٹرسیپشن سسٹم اس پورے منصوبے کا سب سے مہنگا حصہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق صرف یہی نظام مجموعی خریداری لاگت کا تقریباً ۷۰؍ فیصد جبکہ پورے منصوبے کے کل اخراجات کا لگ بھگ ۶۰؍ فیصد حصہ اپنے اندر سمو سکتا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سالانہ آپریشنل اور معاون اخراجات اوسطاً ۳ء۸؍ ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ صرف ابتدائی سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ طویل المدتی مالی بوجھ بھی بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے جنوری ۲۰۲۵ء میں پینٹاگان کو ایک نئی نسل کے میزائل دفاعی نظام کی تیاری کی ہدایت دی تھی۔ ابتدا میں اس منصوبے کو ’’امریکہ کا آئرن ڈوم‘‘ قرار دیا گیا، تاہم بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے ’’گولڈن ڈوم‘‘ رکھ دیا گیا۔ مئی ۲۰۲۵ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر ۲۵؍ ارب ڈالر مختص کرنے اور مجموعی لاگت ۱۷۵؍ ارب ڈالر رہنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن کانگریس کے بجٹ دفتر کی تازہ رپورٹ میں اس تخمینے کو انتہائی کم قرار دیتے ہوئے اخراجات کئی گنا زیادہ ظاہر کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کررہے ہیں: رپورٹ؛ تہران بھی ’سبق سکھانے‘ کیلئے تیار
اس سے قبل بھی اسی ادارے نے ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ صرف خلائی انٹرسیپٹر سسٹمز، جو بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں، ان پر ۲۰؍ برسوں کے دوران ۱۶۱؍ ارب سے ۵۴۲؍ ارب ڈالر تک خرچ آ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کا مقصد صرف محدود میزائل حملوں کو روکنا نہیں بلکہ امریکی محکمہ دفاع کی ۲۰۲۶ء کی قومی دفاعی حکمت عملی کے مطابق بڑے پیمانے پر میزائل حملوں اور جدید فضائی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔
ماہرین کے مطابق خلا پر مبنی دفاعی نظام تکنیکی طور پر نہایت پیچیدہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے لیے مستقل خلائی نگرانی، انتہائی تیز ردعمل اور جدید سیٹیلائٹ نیٹ ورک درکار ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ناقدین کا کہنا ہے کہ ’’گولڈن ڈوم‘‘ نہ صرف مالی اعتبار سے ایک بہت بڑا منصوبہ ہے بلکہ اس کی عملی کامیابی بھی کئی تکنیکی رکاوٹوں سے مشروط ہوگی۔ اگرچہ منصوبہ ابھی ابتدائی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے، لیکن تازہ تخمینے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکہ آنے والے برسوں میں دفاعی ٹیکنالوجی اور خلائی عسکری صلاحیتوں پر غیر معمولی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔