مزدور خاندانوں کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی سی پی سے فوری کارروائی اور اڈے بند کرانے کا مطالبہ کیا۔
خواتین کے وفد کے ہمراہ کارپوریٹر نلیش چودھری ڈی سی پی کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے-تصویر:آئی این این
شہر کے کامت گھر، انجور پھاٹا، پدمانگر اور دیگر مزدور اکثریتی علاقوں میں مبینہ طور پر جاری غیر قانونی دیسی شراب کے کاروبار کے خلاف مقامی خواتین نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس انتظامیہ سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں خواتین کے ایک وفد نے بی جے پی کے سینئر کارپوریٹر نلیش چودھری کی قیادت میںڈپٹی کمشنر آف پولیس ( ڈی سی پی) پون بنسوڈ سے ملاقات کرکے انہیں ایک تفصیلی مکتوب بھی پیش کیا۔
خواتین کا کہنا تھا کہ مذکورہ علاقوں میں ہاتھ بھٹی سے تیار کی جانے والی دیسی شراب کی کھلے عام فروخت سے نہ صرف قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں بلکہ اس کے سنگین سماجی اور معاشی اثرات بھی مقامی خاندانوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد اپنی روزانہ کی آمدنی کا بڑا حصہ شراب نوشی پر خرچ کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں گھروں میں مالی بحران پیدا ہو رہا ہے اور اہل خانہ خصوصاً خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وفد میں شامل خواتین نے پولیس حکام کو بتایا کہ غیر قانونی شراب کے کاروبار کی وجہ سے علاقے میں گھریلو جھگڑوں، جرائم اور دیگر سماجی برائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کئی خاندان ایسے ہیں جہاں بچوں کی تعلیم، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات متاثر ہو رہی ہیں کیونکہ گھر کا کمانے والا فرد اپنی آمدنی نشے کی نذر کر دیتا ہے۔خواتین نے مؤقف اختیار کیا کہ اس صورتحال نے کئی گھرانوں کی معاشی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے اور علاقے کا سماجی ماحول بھی خراب ہو رہا ہے۔خواتین نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی شراب فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور ایسے تمام اڈوں کو مستقل طور پر بند کیا جائے تاکہ عوام خصوصاً مزدور خاندانوں کو اس لعنت سے نجات مل سکے۔
ڈی سی پی پون بنسوڈ نے وفد کی شکایات اور مطالبات کو غور سے سننے کے بعد یقین دہانی کرائی کہ موصولہ درخواست کی جانچ کرائی جائیگی اور قانون کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف پولیس کی کارروائی جاری رہے گی اور کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے یا غیر قانونی کاروبار چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس موقع پر خواتین نے امید ظاہر کی کہ پولیس انتظامیہ جلد ٹھوس اقدامات کرے گی اور شہر کے مختلف علاقوں میں جاری مبینہ غیر قانونی دیسی شراب کے کاروبار کا خاتمہ کرکے عوام کو درپیش اس سنگین مسئلے سے راحت دلائے گی۔