Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: ملبے تلے دبے ہزاروں فلسطینیوں کی شناخت ناممکن ہو سکتی ہے: آئی سی آر سی

Updated: June 16, 2026, 3:03 PM IST | Gaza

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران ملبے تلے دب جانے والے ہزاروں فلسطینیوں کی شناخت وقت گزرنے کے ساتھ ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق انسانی باقیات کی بازیابی میں تاخیر، بھاری مشینری کی عدم دستیابی اور مسلسل رکاوٹیں فرانزک شواہد کو ختم کر رہی ہیں۔ غزہ کے صحت حکام کا اندازہ ہے کہ کم از کم ۱۰؍ ہزار افراد اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہزاروں فلسطینیوں کی شناخت مستقبل میں ناممکن ہو سکتی ہے، کیونکہ لاشوں کی بازیابی کا عمل شدید مشکلات اور تاخیر کا شکار ہے۔برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۵ء میں امریکی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے باوجود ملبے سے انسانی باقیات نکالنے کا عمل انتہائی سست روی سے جاری ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ انسانی باقیات کی شناخت کے امکانات تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں آئی سی آر سی کے ترجمان پیٹ گریفتھس نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ جلد ہی ان لاشوں کی شناخت مشکل ہو جائے گی۔ انسانی باقیات کو بازیافت کرنے میں جتنا زیادہ وقت لگتا ہے، ان کی شناخت کرنا اتنا ہی زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غلافِ کعبہ: ۱۱؍ ماہ میں تیار ہوا نیا کسوہ، عبدالرحیم امین بخاری کلیدی ڈیزائنر

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ملبے کے نیچے میت جتنا زیادہ عرصہ رہے گی، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ وہ سڑنے کے آخری مراحل یا محض ہڈیوں کی شکل اختیار کر چکی ہو۔ ایسی صورت میں فرانزک ماہرین ان شواہد سے محروم ہو جاتے ہیں جو شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔‘‘ غزہ میں فلسطینی شہری اس وقت تقریباً ۶؍ کروڑ ۱۰؍ لاکھ ٹن ملبے کے درمیان اپنے لاپتا عزیزوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق کم از کم ۱۰؍ ہزار افراد اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں، جبکہ بعض بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تعداد ۱۴؍ ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امدادی ٹیموں کے پاس جدید مشینری نہ ہونے کے باعث وہ زیادہ تر بیلچوں، کدالوں، ریک، وہیل بارو اور بعض اوقات اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے پر مجبور ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیمانے کی تباہی سے نمٹنے کے لیے بھاری کھدائی مشینوں اور خصوصی آلات کی اشد ضرورت ہے۔

پیٹ گریفتھس نے کہا کہ ’’تلاش اور بحالی کی ٹیموں کو ان تمام مقامات تک رسائی درکار ہے جہاں انسانی باقیات موجود ہونے کا شبہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ درکار مشینری اور آلات کا غزہ میں داخل ہونا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ آئی سی آر سی مسلسل متعلقہ حکام سے مطالبہ کر رہی ہے کہ لاشوں کی تلاش اور بازیابی کے لیے ضروری آلات اور بھاری مشینری کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں سندر پچائی کے خطاب کے دوران طلبہ کا فلسطینی پرچم اور کیفیہ کے ساتھ واک آؤٹ

دی گارڈین کے مطابق اسرائیلی حکام نے اس معاملے پر کہا ہے کہ اس وقت غزہ میں لاشوں کی بازیابی کے لیے استعمال ہونے والی اضافی بھاری مشینری کے داخلے کی کوئی منظوری موجود نہیں ہے۔ آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ تاخیر کے باعث نہ صرف باقیات کی حالت خراب ہو رہی ہے بلکہ ایسے ذاتی سامان اور دیگر شواہد بھی ضائع ہو رہے ہیں جن کی مدد سے شناخت ممکن بنائی جا سکتی تھی۔ ماحولیاتی اثرات، ملبے کی مسلسل نقل و حرکت اور وقت گزرنے کے ساتھ فرانزک شواہد کے ختم ہونے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔ گریفتھس نے کہا کہ ’’ہم اس کام کے حجم کو دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس میں کیا داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ہزاروں خاندان آج بھی اپنے پیاروں کے بارے میں جواب تلاش کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ ان خاندانوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے لاپتا عزیزوں کی قسمت جان سکیں۔‘‘

اکتوبر ۲۰۲۵ء میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملوں اور فوجی کارروائیوں کی اطلاعات وقفے وقفے سے سامنے آتی رہی ہیں۔ جنگ کے نتیجے میں غزہ کے شہری ڈھانچے کا تقریباً ۹۰؍ فیصد حصہ متاثر یا تباہ ہو چکا ہے، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ غزہ کے صحت حکام کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری جنگ میں تقریباً ۷۳؍ ہزار فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ ۷۳؍ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کی بازیابی اور شناخت کا عمل آنے والے کئی برسوں تک جاری رہ سکتا ہے، بشرطیکہ ضروری وسائل اور بین الاقوامی تعاون فراہم کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK