ریاستی حکومت کے نمائندوں کی طلبہ سے چوتھے دور کی بات چیت سے قبل وزیراعلیٰ سورین نے کابینہ کی میٹنگ طلب کی، جے پی ایس سی کی سابق سربراہ کا پی اے حراست میں، سی آئی ڈی کی بڑی کارروائی۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 12:26 PM IST | Agency | Ranchi
ریاستی حکومت کے نمائندوں کی طلبہ سے چوتھے دور کی بات چیت سے قبل وزیراعلیٰ سورین نے کابینہ کی میٹنگ طلب کی، جے پی ایس سی کی سابق سربراہ کا پی اے حراست میں، سی آئی ڈی کی بڑی کارروائی۔
جھارکھنڈ میں طلبہ کااحتجاج رنگ لایا۔ احتجاج کے ۲۴؍ ویں دن سورین سرکار نے ان کے مطالبات تسلیم کرلئے۔ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ’جے پی ایس سی، سی جی ایل‘ امتحانات کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ اسے طلبہ کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کے اعلان کے بعد، جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں احتجاج پر بیٹھے طلبہ میں جشن کا ماحول برپا ہوگیا۔ حکومت کی جانب سے اعلان ہونے کے بعد طلبہ میں کافی جوش و خروش دیکھا گیا۔ اسی کے ساتھ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ۲۰۱۴ء کے بعد سے اب تک ہونے والی تمام بڑی یا چھوٹی غلطیوں کی چھان بین کی جائے گی اور اس کی اصلاح کی جائے گی۔ اس فیصلے نے بی جے پی کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ خیال رہے کہ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۹ء تک جھارکھنڈ میں بی جے پی کی حکومت تھی۔
یہ بھی پڑھئے:راہل گاندھی کیخلاف مقدمہ پر سپریم کورٹ کی روک
طلبہ کے مطالبات کو تسلیم کرنے سے قبل وزیراعلیٰ سورین نے کابینہ کی میٹنگ طلب کی تھی۔ اسی میٹنگ میں امتحانات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دریں اثنا، سی آئی ڈی ٹیم نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کی سابق رکن اجیتا بھٹاچاریہ کے پرسنل اسسٹنٹ برج کمار داس کو حراست میں لے لیا ہے۔ سی آئی ڈی کی ٹیم برج کمار داس سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔
حکومت اور مظاہرین کے درمیان بات چیت کا چوتھا دور پیر کی شام ساڑھے ۷؍ بجے شروع ہوا۔ طلبہ کو مذاکرات کیلئے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں مدعو کیا گیا تھا، انتظامیہ نے مذاکرات کرنے والے نمائندوں کو گیسٹ ہاؤس پہنچایا بھی، لیکن انھیں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ ساڑھے ۴؍ بجے کابینہ کے ساتھ میٹنگ کرنے والے ہیں، اسلئے طلبہ کے ساتھ گفتگو بعد میں ہوگی۔ اسی کابینی میٹنگ میں یہ اہم فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کے ۵؍ بڑے تجارتی گھرانوں کا ملک کی کارپوریٹ آمدنی کے ۶۰؍فیصدپر قبضہ
صبح راہل نے سورین سے کہا کہ طلبہ سے گفتگو کریں اور شام میں مطالبات تسلیم