دھاراوی کے الگ الگ حصوں میں منعقدہ کیمپ میں جمع کرائے گئے کاغذات کی سچائی بھی دھاراوی بچاؤ آندولن نے واضح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کارپوریٹرس پہلے ہی پولیس میں تحریری شکایت کر چکے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 07, 2026, 10:43 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Dharavi
دھاراوی کے الگ الگ حصوں میں منعقدہ کیمپ میں جمع کرائے گئے کاغذات کی سچائی بھی دھاراوی بچاؤ آندولن نے واضح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کارپوریٹرس پہلے ہی پولیس میں تحریری شکایت کر چکے ہیں۔
دھاراوی ری ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے سربراہ مہیندر کلیانکرکی غلط بیانی اور مئی کے اخیر تک دھاراوی کے الگ الگ حصوں میں ڈی آر پی کے ذریعے منعقدہ کیمپ اور اس میں ہزاروں مکینوں کے کاغذات جمع کرانے کی حقیقت ،اس کی آڑمیں چل رہے کھیل کو گھر گھر پہنچانے کا دھاراوی بچاؤ آندولن نے عہدکیاہے ۔
اس تعلق سے کانگریس کی کارپوریٹرس آشا دیپک کالے (وارڈنمبر ۱۸۳)، ساجدہ بی ببو خان (وارڈ نمبر۱۸۴) اور شیوسینا ادھو گروپ کی ارچنااورت شندے (وارڈنمبر۱۸۶)، جوسف منویل کولی (وارڈ نمبر ۱۸۷)، کارپوریٹرس پہلے ہی اپنی جانب سے دھاراوی پولیس میں ڈی آر پی سربراہ کلیانکر کے خلاف تحریری شکایت کرکے کارروائی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اب سیلون میں بال کٹوانا اور ڈاڑھی بنوانا بھی مہنگا، ۲۰؍ فیصد اضافہ
دراصل ڈی آر پی کے دفتر میں چند دن قبل دھاراوی کے کارپوریٹرس کی میٹنگ بلائی گئی تھی۔ اس میٹنگ سے متعلق ڈی آر پی سربراہ نے یہ غلط بیانی کی تھی اور اسے مشتہر بھی کیا تھا کہ تمام کارپوریٹرس ری ڈیولپمنٹ کے جاری پروسیس کے مکمل حامی ہیں جبکہ کارپوریٹرس کا کہنا تھا کہ انہوں نے دھاراوی بچاؤ آندولن کے بنیادی مطالبے کہ ہر دھاراوی واسی کو ۵۰۰؍اسکوائر فٹ کا دھاراوی میں ہی مفت مکان اورتاجروں کو دکان دی جائے اور چند دیگر شرائط ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا تھا مگر ڈی آرپی کی جانب سےاپنی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے غلط تشہیر کی گئی۔
کارپوریٹر ارچنا شندے نے دھاراوی پولیس کو دی گئی اپنی تحریری شکایت میں لکھا کہ ’’میٹنگ میں تمام کارپوریٹرس نے سیکریٹریٹ ، ڈپٹی کلکٹر، آفیسرز اور این ایم ڈی پی ایل افسران کے سامنےپروجیکٹ کی خامیوں پرتوجہ دلائی اور پروجیکٹ کے بارے میں اعتراضات کیا اور خامیاں دور کرنے پر اتفاق کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ہم کسی بھی کیمپ کی اس وقت تک حمایت یا تعاون نہیں کریں گے جب تک کہ دھاراوی کروں کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتےمگراین ایم ڈی پی ایل کے عہدیداروں نے جھوٹی خبر پھیلائی تھی کہ دھاراوی کے تمام کارپوریٹرس اس پروجیکٹ کے خلاف نہیں ہیں اورا نہوں نے کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح غلط بیانی کرتے ہوئے دھاراوی واسیوں کے ذہنوں میں ہمارے خلاف نفرت پھیلا ئی گئی اور وہ ہماری امیج خراب کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ دھاراوی واسیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اس لئے آپ مناسب قانونی کارروائی کریں۔‘‘ تقریباً تمام کارپوریٹرس نے اپنی شکایت میںاسی طرح کی تفصیلات درج کی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جب تک بیلٹ پیپر کا استعمال نہیں کیا جاتا انتخابات کا بائیکاٹ کریں: راج ٹھاکرے
مختلف طریقوں سے بیداری اورحقیقت کی وضاحت
اس تعلق سے دھاراوی بچاؤ آندولن کے فعال رکن کامریڈ نصیرالحق نےبتایاکہ ’’ خواہ کارپوریٹرس کی میٹنگ ہو یاری ڈیولپمنٹ اتھایٹی کے ذریعے جگہ جگہ کیمپ لگاکرکاغذات جمع کئےگئے ہوں، دراصل یہ دھاراوی واسیوں کوگمراہ کرنے اور انہیں جھانسہ دے کر کسی طرح ان کے کاغذات حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے بعد پھر وہی حال ہوگا جیساکہ میگھ واڑی اور دیگر علاقوں میں کیا گیا کہ کاغذات جمع کرنے کے بعد ۸۰؍فیصد مکینوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔‘‘
اس لئے یہ طے کیا گیا ہے کہ ہر دھاراوی واسی کوبیدار کیا جائے ۔اس کےلئے ۵؍ کام کرنے ہیں ۔ (۱)مختلف طریقوں سےہر مکین کواس کی سچائی بتانی ہے کہ حقیقت کیا ہے(۲) ایک فارم تیار کیاجارہا ہے جسے پُر کروایاجائے گا اوراس کے ذریعے یہ بتایاجائے گا کہ کتنے مکین اس پروجیکٹ سے اتفاق رکھتے ہیں، اس میں۶؍اہم مطالبات بھی درج کئے جائیں گے(۳) جلد ہی اراکین پارلیمان اوراسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بھی ان موضوعات کونمایاں کیاجائے گا (۴) مختلف انداز میں پیغام رسانی اور دھاراوی بچاؤ آندولن کی ٹیم کومزیدالرٹ کیا جائے گا (۵) ہر دھاراوی واسی کودھاراوی میں مکان اورتاجروں کو دکان کے سوا کچھ بھی قبول نہیںاورکوئی دھاراوی واسی دھاراوی سے باہر نہیں جائےگا۔