رکن پارلیمان شری کانت شندے کے خلاف بدھ بھومی فاؤنڈیشن کی ناراضگی۔
EPAPER
Updated: June 07, 2026, 11:47 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
رکن پارلیمان شری کانت شندے کے خلاف بدھ بھومی فاؤنڈیشن کی ناراضگی۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کی جانب سے بدھ بھومی فاؤنڈیشن کی اراضی پر کی گئی حالیہ انہدامی کارروائی نے ایک بڑا سماجی اور سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے۔اس کارروائی کے خلاف ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے پیروکاروں اور بدھ برادری میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ فاؤنڈیشن نے اسے محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ مذہبی اور سماجی شناخت پر حملہ قرار دیا ہے۔
بدھ بھومی فاؤنڈیشن نے میونسپل انتظامیہ پر اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، یکطرفہ کارروائی اور بدھ برادری کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ۱۵؍ جون سے میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے سامنے ایک احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق اس احتجاج میں ریاست کے مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں امبیڈکر وادی اور بدھ سماج کے افراد شریک ہوں گے۔ ادھر فاؤنڈیشن نے کلیان لوک سبھا کے رکن پارلیمان شری کانت شندے اور میونسپل کمشنر ابھینوگوئل کو اس پورے معاملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت قانونی چارہ جوئی کا بھی اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جب تک بیلٹ پیپر کا استعمال نہیں کیا جاتا انتخابات کا بائیکاٹ کریں: راج ٹھاکرے
اشوک نگر میں واقع بدھ بھومی فاؤنڈیشن کے احاطے میں امبیڈکر وادی تنظیموں اور سماجی رہنماؤں کا ایک ہنگامی اور انتہائی اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی صدارت فاؤنڈیشن کے سربراہ بھنتے گوتم رتن مہاتھیلو نے کی۔ اس اجلاس میں کارپوریشن کی بلڈوزر کارروائی کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کی حکمتِ عملی اور احتجاج کا تفصیلی خاکہ تیار کیا گیا۔اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھنتے گوتم رتن مہاتھیلو نے الزام لگایا کہ ۳۰؍ مئی کو پولیس فورس کا بے جا استعمال کرکے بدھ بھومی کی زمین پر کارروائی کی گئی جو سراسر غیر قانونی اور غیر انسانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کارپوریشن نے زمین کی منتقلی کےکسی بھی قانونی عمل کو پورا کئے بغیر اور فاؤنڈیشن کمیٹی کو اعتماد میں لئے بغیر بھگوان بدھ کے ۳؍ مجسموں اور بھیما کورے گاؤں کی تاریخی فتح کی علامت کے ماڈل پر جابرانہ کارروائی کی۔ مظاہرین کے ترجمان ایڈوکیٹ انگلے نے اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے مقامی رکن پارلیمنٹ (ایم پی) ڈاکٹر شری کانت شندے، میونسپل کمشنر ابھینو گوئل اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عیاں رہے کہ رکن پارلیمان شری کانت شندے نے میونسپل کمشنر کو ایک خط لکھ کر اس پورے معاملے میں ایس آئی ٹی کی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔