Updated: February 23, 2026, 9:03 PM IST
| Patna
بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا نے اعلان کیا ہے کہ ریاستی حکومت تعلیمی اداروں، مذہبی مقامات اور بھیڑ والی عوامی جگہوں کے قریب سڑک کنارے کھلے میں گوشت کی نمائش اور فروخت پر پابندی عائد کرے گی۔ حکومت کے مطابق یہ قدم صحت، صفائی اور سماجی ہم آہنگی کے پیش نظر اٹھایا جا رہا ہے۔
وجے کمار سنہا۔ تصویر: آئی این این
بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کھلے عام گوشت اور مچھلی کی فروخت بچوں میں ’’تشدد کے رجحانات‘‘ کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے اسے محدود کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کھانے کی کسی عادت سے مسئلہ نہیں، تاہم سماجی ہم آہنگی، صفائی اور عوامی جذبات کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کے مطابق پابندی ان مقامات پر نافذ کی جائے گی: تعلیمی اداروں کے قریب، مذہبی مقامات کے اطراف، بھیڑ والی عوامی جگہوں پر اور شہری علاقوں میں بغیر لائسنس فروخت۔ سنہا نے قانون ساز کونسل میں بتایا تھا کہ دربھنگہ ضلع کے دورے کے دوران شہریوں نے سڑک کنارے گوشت فروخت سے پیدا ہونے والی گندگی، بدبو اور ٹریفک بھیڑ کی شکایت کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: تجارتی معاہدہ پر کانگریس نے پھر تنقید کی
یہ اقدام بہار میونسپل ایکٹ ۲۰۰۷ء کی دفعہ ۳۴۵؍ کے تحت نافذ کیا جائے گا۔ اس شق کے مطابق کوئی بھی شخص چیف میونسپل آفیسر کے لائسنس کے بغیر قصاب، مچھلی فروش یا پولٹری فروش کے طور پر کام نہیں کر سکتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر لائسنس یافتہ اور کھلے عام گوشت فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔خیال رہے کہ یہ اعلان ان ریاستوں کے طرز پر ہے جہاں بی جے پی کی حکومتیں اسی نوعیت کی پابندیاں نافذ کر چکی ہیں۔ ۲۰۱۷ء میں اترپردیش میں مذہبی مقامات کے قریب گوشت فروخت پر رہنما خطوط جاری کیے گئے تھے۔ مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور مہاراشٹر میں بعض ہندو تہواروں کے دوران مقامی پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: روہت پوار کا وزیر برائے ہوا بازی کو ہٹانے کا مطالبہ
سنہا نے واضح کیا کہ فیصلہ کسی کمیونٹی یا خوراک کی ترجیح کے خلاف نہیں بلکہ شہری نظم و ضبط اور صفائی کے لیے ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے شہری علاقوں میں گوشت فروشوں کو لائسنسنگ اور دکانوں کی ساخت میں تبدیلی لانا پڑ سکتی ہے۔ دوسری جانب بعض حلقے اس اقدام کو سماجی ہم آہنگی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے نفاذ کا طریقہ کار اہم ہوگا۔