Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار:گاڑیوں پر ذات پات کے اسٹیکرز پر پابندی، خلاف ورزی پر جرمانہ

Updated: May 12, 2026, 6:14 PM IST | Patna

بہار کے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ نے گاڑیوں پر ذات پات سے متعلق الفاظ، اسٹیکرز اور نعروں کے استعمال کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ حکام نے گاڑی مالکان کو ایک ماہ کے اندر ’’یادو‘‘، ’’راجپوت‘‘، ’’برہمن‘‘ اور دیگر ذات پر مبنی شناختی نشانات ہٹانے کی ہدایت دی ہے، بصورت دیگر موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت ۲؍ ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

Symbolic image: X
علامتی تصویر: ایکس

بہار حکومت نے ریاست بھر میں گاڑیوں پر ذات پات سے متعلق شناختی الفاظ، اسٹیکرز اور نعروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی نئی ہدایات کے مطابق تمام گاڑی مالکان کو ایک ماہ کے اندر اپنی گاڑیوں سے ذات پر مبنی تحریریں ہٹانا ہوں گی، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد گاڑیوں پر ’’یادو‘‘، ’’راجپوت‘‘، ’’برہمن‘‘ اور دیگر برادریوں کے ناموں کے استعمال کو روکنا ہے، جو ریاست میں ایک عام رجحان بن چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اسٹیکرز اور نعرے نہ صرف سماجی تفریق کو فروغ دیتے ہیں بلکہ بعض اوقات طاقت اور غلبے کے اظہار کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو پولیس نے ایکس کو ’ٹی وی کے مخالف‘ پوسٹس پر ۲۰ سے زائد اکاؤنٹس بلاک کرنے کی ہدایت جاری کی

محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق جون کے پہلے ہفتے تک رضاکارانہ تعمیل کی مہلت دی گئی ہے۔ اس مدت کے بعد بہار ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ اور ٹریفک پولیس مشترکہ طور پر ریاست بھر میں سخت نفاذی مہم چلائیں گے۔ خلاف ورزی کرنے والوں پر موٹر وہیکل ایکٹ ۱۹۸۸ء کی دفعہ ۱۷۷؍ کے تحت ۵۰۰؍ روپے جرمانہ جبکہ سرکاری احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں دفعہ ۱۷۹؍ کے تحت ۲؍ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ ریاستی ٹرانسپورٹ کمشنر نے تمام ضلعی ٹرانسپورٹ افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں اس حکم پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔

اس مہم کے ساتھ ہی بہار حکومت اپنے انٹیلیجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (ITMS) کو بھی وسعت دے رہی ہے۔ حکام کے مطابق پٹنہ، گیا، بھاگلپور، مظفر پور اور دربھنگہ سمیت مختلف شہروں میں ۵۰۰؍ سے ۷۰۰؍ مقامات پر اے آئی سے چلنے والے جدید کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔ یہ کیمرے نہ صرف ٹریفک خلاف ورزیوں جیسے تیز رفتاری، ریڈ لائٹ جمپنگ اور ہیلمٹ قوانین کی نگرانی کریں گے بلکہ ذات پات سے متعلق ممنوعہ اسٹیکرز والی گاڑیوں کی شناخت بھی کر سکیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں ایک ہزار سے زائد کیمرے نصب کیے جائیں گے جو مرکزی کمانڈ سنٹر سے منسلک ہوں گے اور خودکار ای چالان جاری کریں گے۔ بہار حکومت اس فیصلے کو سماجی ہم آہنگی کے فروغ کی کوشش قرار دے رہی ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق عوامی مقامات پر ذات پات کے نمایاں اظہار سے سماجی تقسیم اور عدم مساوات کو تقویت ملتی ہے۔ اسی نوعیت کی کارروائیاں پہلے اتر پردیش، نوئیڈا، غازی آباد اور گروگرام میں بھی دیکھی جا چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سانگلی: دسویں کے امتحان میں سورج سالونکھے سبھی مضامین میں ۳۵-۳۵؍ مارکس سے کامیاب

اس فیصلے نے سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض صارفین نے اسے مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر ذات پات کی نمائش غیر ضروری ہے، جبکہ کچھ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت کی جانب سے اے آئی نگرانی کا بڑھتا استعمال شہری آزادیوں اور رازداری پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بہار کی سیاست میں ذات پات اب بھی ایک مرکزی عنصرسمجھا جاتا ہے، اس لیے حکومت کی یہ مہم انتظامی غیر جانبداری کا تاثر دینے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK