Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار میں پہلی بار ایم ایس پی پر دالوں کی خریداری

Updated: April 24, 2026, 2:51 PM IST | Mumbai

چھتیس گڑھ میں خریداری کے نظام کو مضبوط بنایا گیا۔این سی سی ایف نے بہار میں پہلی بار مسور کی دال کی منظم خریداری شروع کی۔

Under the `Aatmanirbhar Dulhan Mission`, the procurement of pulses has been started in Bihar in a systematic manner for the first time. (File photo)
 ’آتم نربھر دلہن مشن‘ کے تحت بہار میں پہلی بار منظم طریقے سے دالوں کی خریداری شروع کی گئی ۔( فائل فوٹو)

مرکزی حکومت نے ’پی ایم-آشا‘ اسکیم کے تحت خریداری کے کام کو وسعت دیتے ہوئے چھتیس گڑھ اور بہار میں کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کا فائدہ پہنچانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔

جہاں ایک طرفچھتیس گڑھ میں  خریداری کا عمل۱۲؍ ہزار ٹن سے تجاوز کر گیا ہے، وہیں دوسری طرف ’آتم نربھر دلہن مشن‘ کے تحت بہار میں پہلی بار منظم طریقے سے دالوں کی خریداری شروع کی گئی ہے۔ یہاں جاری ایک سرکاری ریلیز میں یہ معلومات دی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک اہم کامیابی کے طور پر، نیشنل کوآپریٹیو کنزیومر فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (این سی سی ایف) نے بہار میں پہلی بار مسور کی دال کی منظم خریداری شروع کی ہے۔ یہ پہل سائنسی طریقے سے اسٹوریج کے لئے’ سینٹرل ویئر ہاؤسنگ کارپوریشن ‘(سی ڈبلیو سی) کے تعاون سے چلائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پریگو کا ’’کنکشن کیپر‘‘ متعارف، ڈنر گفتگو ریکارڈ کرنے والا آلہ تنازع کا شکار

گزشتہ۲۲؍ اپریل تک کے اعداد و شمار کے مطابق بہار میں۳۲؍ہزار ٹن مسور کی خریداری کا ہدف رکھا گیا ہے جس کے تحت اب تک۱۰۰ء۴؍ ٹن کی خریداری مکمل ہو چکی ہے۔ ریاست میں ۱۶؍پیکس /ایف پی اوز رجسٹرڈ کئے گئے ہیں اور نیفیڈ  بھی اپنے نیٹ ورک کے ذریعے کام کو بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔

چھتیس گڑھ میں ’ای-سنیوکتی‘ پورٹل اور ڈیجیٹل شراکت داری کی وجہ سے خریداری کے عمل میں کافی تیزی آئی ہے۔ فی الحال ریاست کے دھمتری، درگ، رائے پور  اور رائے گڑھ سمیت کئی اضلاع میں ۸۵؍پیکس مراکز کے ذریعے خریداری جاری ہے۔۲۲؍اپریل تک این سی سی ایف نے چنے کی۹؍ ہزار۳۲؍ ٹن اور مسور کی۷ء۹۸؍ٹن خریداری مکمل کر لی ہے جس سے۶؍ ہزار۱۵۰؍ سے زائد کسان مستفید ہوئے ہیں۔ نیفیڈ نے ریاست میں۱۳۷؍ مراکز کھولے ہیں۔ اب تک نیفیڈ کے ذریعے۳؍ ہزار۸۵۰؍ ٹن چنا اور۱۰۹؍ ٹن مسور خریدی جا چکی ہے جس سے تقریباً۲ ؍ ہزار۹۲۶؍ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کھادکی سپلائی متاثر، ہندوستان کو غذائی اجناس کی گرانی کا سامنا

حکومت کے ان اقدامات کا بنیادی مقصد ایم ایس پی پر مبنی خریداری کے نظام کو بااختیار بنانا اور کسانوں کو بچولیوں کے چنگل سے بچا کر باضابطہ سپلائی چین سے جوڑنا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور توسیعی پیکس نیٹ ورک کے ذریعے شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو `’آتم نربھر بھارت‘ کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK