Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا اور اے ایف سی نے افغان خواتین کو بین الاقوامی میچوں میں شرکت کی اجازت دی

Updated: April 29, 2026, 4:03 PM IST | Zurich

فیفا کونسل نے بدھ کو فیفا گورننس ریگولیشنز میں ایک تبدیلی کی منظوری دی ہے، جس کے تحت افغان خواتین کھلاڑی فیفا مقابلوں کے حصے کے طور پر سرکاری بین الاقوامی میچوں میں حصہ لے سکیں گی۔

Afghanistan Team.Photo:X
افغانستان ٹیم۔ تصویر:ایکس

فیفا کونسل نے بدھ کے روز فیفا گورننس ریگولیشنز میں ایک تبدیلی کی منظوری دی ہے، جس کے تحت افغان خواتین کھلاڑی فیفا مقابلوں کے حصے کے طور پر سرکاری بین الاقوامی میچوں میں حصہ لے سکیں گی۔ افغانستان کی خواتین ٹیم نے۲۰۲۱ءمیں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے کوئی باقاعدہ بین الاقوامی مسابقتی میچ نہیں کھیلا۔ اس تاریخی فیصلے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کھلاڑیوں کو ان حالات کی وجہ سے بین الاقوامی فٹبال سے باہر نہ کیا جائے جو ان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے کہا ’’فیفا کونسل نے آج فیفا گورننس ریگولیشنز میں ایک اہم تبدیلی کی منظوری دی ہے، جس کے تحت افغان خواتین کھلاڑی—جن میں فیفا کی مالی معاونت سے چلنے والی اور فیفا کی حمایت یافتہ افغان ویمن یونائیٹڈ ٹیم کی اراکین بھی شامل ہیں اپنی متعلقہ علاقائی کنفیڈریشن، اس معاملے میں ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے ساتھ معاہدے کے تحت فیفا مقابلوں کے حصے کے طور پر سرکاری بین الاقوامی میچوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کر سکیں گی۔‘‘
فیفا کی مالی معاونت سے چلنے والی اور حمایت یافتہ ٹیم اپنا اگلا تربیتی کیمپ یکم سے ۹؍جون تک نیوزی لینڈ میں لگائے گی، جہاں انہیں کک آئی لینڈز کے خلاف کھیلنے کا موقع بھی ملے گا۔اگرچہ یہ تبدیلی فوری طور پر نافذ العمل ہے، تاہم فیفا ضروری انتظامی اور تیاری کے اقدامات کرے گا، جن میں ٹیم رجسٹریشن اور ایک آپریشنل اور اسپورٹنگ ڈھانچے کی تیاری شامل ہے۔
فیفا نے ایک بیان میں کہا’’عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی تمام ضروری وسائل انسانی، تکنیکی اور مالی تعاون فراہم کرے گی تاکہ سرکاری مقابلوں کے لیے ایک محفوظ، پیشہ ورانہ اور پائیدار راستہ یقینی بنایا جا سکے۔ افغان ویمن یونائیٹڈ پلیئرز کے لیے سپورٹ پیکیج پورے عبوری مرحلے میں دو سال تک جاری رہیں گے، جس سے نئے ڈھانچے کو اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات کے ساتھ ترقی دینے میں مدد ملے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’پیڈی‘‘ میں ڈانس نمبر کے لیے شروتی ہاسن کو خطیر رقم ملی


افغانستان کی سابق کپتان خالدہ پوپل نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کھلاڑیوں کے لیے افغانستان کی نمائندگی شناخت، عزت اور امید سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے فیفا قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کا سب سے بڑا مطالبہ سنا اور ایسا حل پیش کیا جو کسی اور کھیل میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ان کے مطابق یہ لمحہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ جب ہم متحد ہوتے ہیں تو مزید بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پی ایس جی بمقابلہ بائرن: پیرس سینٹ جرمین کو معمولی برتری


یہ اصلاح فیفا کی افغان خواتین فٹبال کے لیے ایکشن اسٹریٹجی پر مبنی ہے، جس کی منظوری گزشتہ سال مئی میں فیفا کونسل نے دی تھی۔ یہ افغان ویمن یونائیٹڈ کے قیام کے بعد سامنے آئی، جو ایک فیفا کی حمایت یافتہ ٹیم ہے اور ملک سے باہر رہنے والی افغان خواتین فٹبالرس کو کھیلنے کا مناسب موقع فراہم کرتی ہے۔ پہلی بار یہ افغان خواتین کھلاڑی مکمل اسپورٹنگ شناخت کے ساتھ اپنے ملک کی نمائندگی سرکاری میچوں میں کر سکیں گی۔ پچھلے سال کونسل نے افغان خواتین فٹبال کے لیے ایکشن اسٹریٹجی کی منظوری دی تھی، جس میں افغان ویمن ریفیوجی ٹیم بنانے کا تصور شامل ہے اور فیفا انتظامیہ کو اس کے آپریشنز منظم کرنے اور جلد از جلد کام شروع کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK