Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان کا افغانستان میں فضائی حملہ، ۳۶؍افرادہلاک ، ۱۶۳؍زخمی

Updated: June 30, 2026, 3:01 PM IST | Agency | New York

افغانستان حکومت نے کہا : اسلام آباد کے بزدلانہ فعل کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان کا دعویٰ: دہشت گرد نشانہ بنے۔

A building destroyed in a Pakistani airstrike can be seen.Photo:INN
پاکستان کے فضائی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت دیکھی جاسکتی ہے-تصویر:آئی این این
پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی شب انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر پاکستانی فورسیز نے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنٹر میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ۳؍ اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے ۲۵؍ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ تاہم افغان طالبان کے ترجمان نے اس کارروائی کو ’بزدلانہ‘ اور ’سفاکانہ‘ قرار دیا اور الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے فضائی حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ۳۶؍ افراد ہلاک جبکہ ۱۶۳؍ زخمی ہوئے ہیں۔ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام عام شہری ہیں۔
 
 
پاکستان کادعویٰ ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں شدت پسندوں کے اِن مراکز میں موجود بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔اتوار کی شب پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی جانب سے جاری ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات اور سنیچر کی شب کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کے بعد دو مختلف کارروائیوں میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔
 
 
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر چند زخمی بچوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت ۳۶؍ عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم جارحیت کے اس بزدلانہ فعل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اسے ایک جرم اور سفاکانہ فعل سمجھتے ہیں۔ طالبان ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں پکتیکا کے علاقے جانی، پکتیا کے سمکانی اور کنڑ کے علاقے منورہ میں شہری آبادیوں پر فضائی حملے کئے  ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK