• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرمنی: بی ایم ڈبلیو اپنی لاکھوں کاریں واپس منگوائے گا

Updated: February 12, 2026, 10:09 PM IST | Munich

جرمن کار ساز کمپنی BMW نے دنیا بھر میں لاکھوں گاڑیوں کو ری کال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق بعض ماڈلز میں اسٹارٹر موٹر سے متعلق تکنیکی خرابی آگ لگنے کے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ متاثرہ گاڑیوں کی مفت مرمت کی جائے گی اور مالکان کو احتیاطی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

لگژری گاڑیاں بنانے والی جرمن کمپنی BMW نے عالمی سطح پر اپنی لاکھوں گاڑیوں کو ری کال (واپس طلب) کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جن کا پروڈکشن ۲۰۲۰ء سے ۲۰۲۲ء کے درمیان ہوا ہے۔ کمپنی کے مطابق بعض ماڈلز میں اسٹارٹر موٹر یا اس سے جڑے برقی حصے میں خرابی کے باعث انجن کے زیادہ گرم ہونے اور آگ لگنے کا خطرہ موجود ہے۔ اعلامیے کے مطابق متاثرہ گاڑیاں مختلف ممالک میں فروخت کی گئی تھیں اور ری کال مہم عالمی سطح پر چلائی جائے گی۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ حادثات سے بچا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق مسئلہ انجن اسٹارٹر موٹر کے اندرونی الیکٹریکل کنکشن سے متعلق ہے، جہاں وقت کے ساتھ خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر اسٹارٹر کا برقی نظام شارٹ سرکٹ کا شکار ہو جائے تو انجن کے حصوں میں غیر معمولی حرارت پیدا ہو سکتی ہے، جو آگ لگنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اگرچہ ایسے واقعات کی تعداد محدود بتائی گئی ہے، تاہم کمپنی نے حفاظتی اصولوں کے تحت وسیع ری کال کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو میں ٹاٹا کا۹؍ ہزار کروڑ کا کارمینوفیکچرنگ پلانٹ

بی ایم ڈبلیو نے کہا ہے کہ متاثرہ گاڑیوں کے مالکان کو براہِ راست مطلع کیا جائے گا۔ ڈیلرشپس پر اسٹارٹر موٹر یا متعلقہ پرزہ مفت تبدیل کیا جائے گا۔ بعض صورتوں میں بیٹری یا دیگر برقی اجزاء کا بھی معائنہ کیا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق مرمت کے عمل میں عموماً چند گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ کار ساز کمپنی نے مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی گاڑی کا وہیکل آئیڈینٹی فکیشن نمبر (VIN) کمپنی کی ویب سائٹ یا مجاز ڈیلر کے ذریعے چیک کریں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا ان کی گاڑی ری کال فہرست میں شامل ہے یا نہیں۔ اس دوران اگر انجن اسٹارٹ کرنے میں غیر معمولی آواز، دھواں یا حرارت محسوس ہو تو فوری طور پر گاڑی کا استعمال روکنے اور سروس سینٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق عالمی ری کالز جدید گاڑیوں میں پیچیدہ الیکٹرانک سسٹمز کے باعث نسبتاً عام ہو چکی ہیں۔ حفاظتی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی کمپنیاں معمولی تکنیکی خرابی کی صورت میں بھی وسیع پیمانے پر اقدامات کرتی ہیں۔ اس تناظر میں بی ایم ڈبلیو کا فیصلہ حفاظتی ذمہ داری کے تحت اٹھایا گیا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۵ء میں ریل کے ذریعے ریکارڈ۸۵ء۵؍ لاکھ سے زیادہ گاڑیاں بھیجی گئیں

کمپنی نے اس ری کال کے مالی اثرات کے بارے میں تفصیلی اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم کہا ہے کہ صارفین کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ ری کال مہم مختلف خطوں میں مرحلہ وار شروع کی جائے گی اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔یہ پیش رفت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جدید گاڑیوں میں برقی نظام کی پیچیدگی کے باعث معمولی خرابی بھی سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ ایسے میں بروقت شناخت اور مرمت سے بڑے حادثات کو روکا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK