• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

الیکشن کمیشن کے فرمان اورغفلت سے بی ایل او عاجز

Updated: October 15, 2026, 12:57 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

کہا: الیکشن کمیشن کی غفلت کی سزا ووٹر اوربی ایل کودی جارہی ہے۔ یہ بھی اعتراف کیا کہ جن ووٹرس نے ایس آئی آر فارم بھردیا ہے، ان کو اصولاً نوٹس جاری ہی نہیںکیا جانا چاہئے تھا۔

Voters are submitting their documents to the BLO. Photo: Inquilab
بی ایل او کے پاس ووٹرس اپنے کاغذات دے رہے ہیں۔ تصویر: انقلاب

اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر ) کے تعلق سے ووٹروں کو ہونے والی پریشانی کےساتھ بی ایل او بھی عاجز آگئے ہیں۔نمائندۂ انقلاب نے الگ الگ علاقو ں میں کام کرنےوالے بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) سے بات چیت کی اوریہ جاننے کی کوشش کی کہ انہیںکس قدر پریشانی ہورہی ہے اور ووٹروں کی شکایت اوران کی پریشانی سے وہ کس قدر اتفاق رکھتے ہیں ۔  اس پربی ایل او نے یہ اعتراف کیا کہ دراصل الیکشن کمیشن کی غلطی کی سزا ووٹر اور بی ایل او کو دی جارہی ہے۔ ووٹر ایک ہی دستاویز جمع کرانے کیلئے بار بار چکر کاٹنے پر مجبور ہیں جس سے رسپانس بھی کم ہےاور وہ برہمی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ 

غفلت کی حد 

اتنا ہی نہیں الیکشن کمیشن کی غفلت کی حد یہ ہے کہ ڈسکریپنسی کیلئے جو ڈکلیریشن فارم بنایا گیا ہے، اس کی تفصیلات اور ایس آئی آر کے فارم کی تفصیلات یکساں ہیںبلکہ ایس آئی آر فارم میں ووٹر کے دستخط بھی ہیںجبکہ ڈکلیئریشن فارم میں اس کی شرط نہیں ہے،محض بی ایل او کے دستخط کافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی ایل او کا کہنا ہےکہ جن ووٹر نےایس آئی آر کا فارم بھرا ہے اصولاً انہیں نوٹس ہی نہیں دیا جانا چاہئے تھا  اس لئے بھی کہ یہ فارم ووٹر نے توشائع نہیں کیا ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے پھر بھی اسےبار بار پریشان کیا جارہا ہے، آخر ووٹر ایک کام کے لئے کتنی دفعہ چکر لگائے گا اورکتنی دفعہ دفتر سے چھٹی لے گا۔

یہ بھی پڑھئے: کلیان: اسٹیشن ماسٹروں پر حملوں کے خلاف ریلوے ملازمین کی تنظیمیں متحرک، احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا

بی ایل اونےکن ۶؍اہم نکات پر مبنی شکایت پرتوجہ دلائی 

  (۱) بار بار کاغذات طلب کرنے کے سبب اور موجودہ حالات کی وجہ سے عام آدمی ایس آئی آر کوبہت زیادہ اہمیت نہیں دے رہا ہے (۲) رسپانس بہت کم ہے، لوگ برہم ہوتے ہیں اور ناراض ہو کر الٹا سیدھا بھی کہہ دیتے ہیں (۳) اپنے نام میں تصحیح  (سیلف ڈسکریپنسی ) انڈر ٹیکنگ کی تفصیلات اور ایس آئی آر (ای ایف فارم )کی تفصیلات یکساں ہیں بلکہ ای ایف فارم پرتو ووٹر کے دستخط بھی ہیں جبکہ انڈر ٹیکنگ فارم پرووٹر کے دستخط کی شرط نہیں ہے۔ اس طرح صرف عام ووٹر کو پریشان کیا گیا ہے، یہ غفلت الیکشن کمیشن کی ہے۔ اسی طرح جس نے ایس آئی آر کا فارم بھر دیا ہے ، اصولا ًاس کو نوٹس دیناہی نہیں چاہئے تھا (۴)  الیکشن کمیشن کی غلطی کی سزا بی ایل او اور ووٹر کو دی جارہی ہے اور بی ایل او کو ٹریننگ بھی نہیں دی گئی ہے (۵)آن لائن تفصیلات جمع کرانے کے باوجود بہت سے ووٹربی ایل او سے آکر پوچھ رہے ہیں کہ ان کا کام ہوگیا ہے یا نہیں، انہیں کچھ اور تو نہیںکرنا ہے جبکہ بی ایل او کو اس کے بارے میں خود ہی کچھ معلوم نہیں ہے (۶)پہلے انڈر ٹیکنگ صرف سیلف کریکشن جسے سیلف ڈسکریپنسی کہتے ہیں،کیلئے ذاتی ڈکلیئریشن لیا جاتا تھا، اب پروجنی میں بھی ڈکلیئریشن کا فرمان جاری کیا گیا ہے، ایسے میں جو ووٹر پروجنی (منطقی تضاد) کا فارم جمع کرا چکے ہیں، ان ووٹرس کا اور بی ایل او کا کام مزید بڑھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے ووٹر کو تلاش کرنا یاا ن کو بلانا بھی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے اب یہ کام بھی بی ایل او کو کرناپڑرہا ہے۔ اس طرح بی ایل او کو نئی نئی دقتیں پیش آرہی ہیں۔

دیگر علاقوں میں بی ایل او کا مسائل کااعتراف 

نمائندۂ انقلاب نے مالونی ، گوونڈی ، کرلا ، چیتا کیمپ اور ملاڈمیں بی ایل اوسے ان دشواریوں کے تعلق سے استفسار کیا کہ تو سب نے اس کا اعتراف کیا۔بعض بی ایل اوکا کہنا ہےکہ ووٹر اس قدر تنگ آگئے ہیںکہ بعض تو یہاں تک کہہ دیتے ہیںکہ کتنا کاغذ جمع کرائیں، جانے دیجئے،جو ہوگا دیکھ لیا جائے گا۔

ا ی آر او نے کیا کہا؟

ملاڈ میں ای آر او سے استفسار پر انہوں نے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق ایس آئی آر کا کام کیا جارہا ہے،ا سی کی روشنی میں بی ایل او کو بھی ہدایات دی جاتی ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK