بائیکلہ میں واقع رچرڈسن اینڈ کروڈاس میں الیکشن کمیشن کے منتخب افسران لوگوں کی رہنمائی کرنےکے ساتھ یہ بھی اطمینان دلا رہے ہیں ۔ بائیکلہ اسمبلی حلقہ میں ۲؍ لاکھ ۵۸ ؍ہزار ووٹرس ہیں ۔
جے جے مارگ پر رچرڈسن کروڈاس میں رائے دہندگان ایس آئی آر کے تعلق سے معلومات حاصل کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
جنوبی ممبئی کے بائیکلہ اسمبلی حلقہ نمبر ۱۸۴؍ جس میں ۲۶۵؍ پولنگ اسٹیشن ہیں اور ۲؍ لاکھ سے زائد رائے دہندگان ہیں ۔ اس حلقہ انتخاب کے مسلم اکثریتی علاقوں میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے کرائے جانے والے ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن( ایس آئی آر )‘ کے تحت رائے دہندگان کی میپنگ کا کام زور و شور سے جاری ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جے جے روڈپر واقع رچرڈسن اینڈ کروڈاس میں جو بائیکلہ اسمبلی حلقہ انتخاب ۱۸۴؍کا ہیڈکوارٹرز ہے ،میں ایک طرف چند بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او) اور پولنگ آفیسر بے چین اور پریشان ہونے والے رائے دہندگان کی ایس آئی آر کے ذریعہ کی جانے والی میپنگ میں رہنمائی کررہے ہیں ، وہیں اس بات کا بھی اطمینان دلا رہے ہیں کہ شہریوں کو بی ایل او کے پاس بھاگ کر آنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خود پولنگ آفیسر کو گھر گھر جاکر الیکشن یادی کی مدد ہی سے رائے دہندگان کی میپنگ کے عمل کو پورا کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔
اس کے باوجود جنوبی ممبئی کے اکثر و بیشتر مسلم اکثریتی علاقے جن میںمدنپورہ ، مورلینڈ روڈ، ناگپاڑہ ، کالا پانی ، دو ٹانکی ، ڈنکن روڈ ،نل بازار، بھنڈی بازار ،مستان تالاب ، ڈونگری اور محمد علی روڈ وغیرہ شامل ہیں ، ان میں ایک طرف عوام الیکشن کمیشن کی جاری کردہ ویب سائٹ پر ووٹنگ لسٹ میں اپنا نام تلاش کررہے ہیںاور نام نہ ملنے کی صورت میں بے چین اور پریشان ہورہے ہیں تو دوسری طرف بی ایل او کے ذریعہ میپنگ کس طرح کرائی جائے ، اس تعلق سے علاقے کے لیڈران اور رضاکار بھی اپنی خدمات پیش کررہے ہیں ۔
رچرڈسن اینڈ کروڈاس میں بھی پولنگ آفیسر اور بی ایل او کی مدد سے جہاں لوگ اپنا اور اپنے اہل خانہ کی میپنگ کرانے میں مصروف تھے ، وہیں بی ایل او ساتھ ہی پولنگ آفیسر انہیں میپنگ کرانے میں مدد کرنے اور رہنمائی کرنے کے علاوہ انہیں گھر گھر جاکر میپنگ کئے جانے کا یقین بھی دلا رہے تھے۔
اس ضمن میں جب نمائندہ انقلاب نے الیکشن آفیسر سے ایس آئی آر کے تعلق سے پھیلی بے چینی اور اس کے سدباب کے تعلق سے جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ’’شہر اور ریاستی سطح پر الگ الگ علاقوں میں بی ایل اوز کو منتخب کیا گیا ہے ۔ منتخب کئے جانے والے بی ایل او کے پاس اس علاقے اور وارڈ کی سطح پر ترتیب کردہ الیکشن یادی موجود ہے ۔ اس یادی میں اس علاقے کے رائے دہندگان کا نام موجود ہے ۔ اس یادی کی مدد سے بی ایل او ہی موجودہ الیکشن لسٹ میں موجود نام اور سابقہ یعنی ۲۰۰۲ ء میں موجود ووٹرلسٹ میں رائے دہندگان کے نام کو تلاش کرے گا اور اس کی میپنگ کرے گا۔کسی صورت اگر ۲۰۰۲ء میں رائے دہندگان کا نام موجود نہیں ہے تو ہر بی ایل او اس علاقے میں گھر گھر جاکر رائے دہندگان سے تفصیلات حاصل کرنے کے بعد رائے دہندگان کے سامنے آن لائن میپنگ کے عمل کو پورا کرے گا ۔اس لئے کسی بھی رائے دہندگان کو اس بات سے پریشان یا فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایس آئی آر کا عمل ان کے بغیر پورا ہو گا یا انہیں ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا جائے گا تاوقتیکہ بی ایل او کا گھر گھر جاکر اس کارروائی کو پورا کرنے کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا ہے۔‘‘آفیسر نے مزید کہا کہ ’’ اس اسمبلی حلقہ میں۲؍ لاکھ ۵۸؍ ہزار ۸۵۶؍ رائے دہندگان ہیں جن میں مرد رائے دہندگان ایک لاکھ ۳۷؍ ہزار ۴۶۰؍ جبکہ خواتین ایک لاکھ ۲۱؍ ہزار ۳۸۹؍ اور دیگر جماعت سے وابستہ ۷؍ رائے دہندگان ہیں ۔‘‘
انہوںنے اب تک ایس آئی آر کے تحت میپنگ کئے جانے کی تعداد یا اعداد و شمار کی تفصیلات حاصل نہ ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس عمل کو پورا کرنے کے لئے تاریخ کا تعین نہیں کیا گیاہے ۔ اس کے علاوہ اس عمل کو پورا کرنے کیلئے بی ایل او کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے بھی دقت پیش آرہی ہے لیکن شہریوں کو اس تعلق سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب تک بی ایل او گھر گھر جاکر اس عمل کو پورا نہیں کرتا ، اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔