• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی ایم سی کا ۳؍ زمینیں۳۰ ؍ سال کیلئے نجی اداروں کو مفت دینے کا فیصلہ

Updated: October 10, 2026, 11:36 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

اپوزیشن پارٹیوں کا شدید احتجاج۔ اس اقدام کو میونسپل قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

BMC headquarters building. Photo: INN
بی ایم سی کے صدردفتر کی عمارت۔ تصویر: آئی این این

برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن( بی ایم سی )کی جانب سے ممبئی کے اہم علاقوں کی ۶ ؍ زمینیں جن پر میونسپل دواخانہ، میٹرنیٹی ہوم اور شہریوںکو علاج کی دیگر سہولتیں مہیا کرائی جانی ہے، کو ۳۰؍سال کے طویل معاہدے  (لیز) پر نجی اداروں کو برائے نام (ایک روپیہ یا بلا معاوضہ) دینے کے فیصلے کی اپوزیشن پارٹیوںنے شدید مخالفت کی ہے۔ یہ تجویز جمعہ کو کثرت رائے کی بنیاد پر اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں منظور کر لی گئی۔اپوزیشن لیڈروں نے اس تجویز کو مسترد کرنے اور شہری خزانے کی لوٹ روکنے کا میونسپل کمشنر سے مطالبہ کیا ہے۔

بی ایم سی میںکانگریس کے گروپ لیڈر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن اشرف اعظمی کا کہنا ہے کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے ایجنڈے میں ( آئٹم نمبر ۱۶) میں  ۶؍ منزلہ مورول پالی کلینک بی ایم سی خود صرف ۶؍ کروڑ ۸۷؍ لاکھ روپے میں تعمیر کر رہی ہے تو پھر۶۰۰؍کروڑ روپے کی زمین مفت میں کیوں دی جارہی ہے؟اپوزیشن پارٹیوں نے اس اقدام کو میونسپل قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

نجکار ی کیلئے  مجوزہ ۶ ؍اہم زمینیں

(۱)دہیسر (۲)چاندیولی (۳)موگرا (اندھیری) (۴)کھار میٹرنٹی ہوم (۵) مانخورد (۶) وکھرولی

یہ بھی پڑھئے: ۵۲؍ برس میں جنگلی جانوروں کی آبادی ۷۳؍ فیصد گھٹ گئی: ڈبلیو ڈبلیو ایف

اہم اعتراضات اور خدشات:

ایم ایم سی ایکٹ کی خلاف ورزی: اس ضمن میں بی ایم سی میں کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی نے بتایاکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ ۶۱؍ ( جی جی )کے تحت شہریوں کو انتہائی کم اور مناسب قیمت پر معیاری طبی و صحت عامہ کی سہولیات فراہم کرنا بی ایم سی کی بنیادی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ان زمینوں کو پرائیویٹ ہاتھوں میں سونپنا اس قانونی دفعہ کی براہِ راست خلاف ورزی ہے۔ اس قانون کا حوالہ دیتے ہوئے اشرف اعظمی نے   میونسپل کمشنر کو لیٹر لکھ کر اس ای ٹینڈر کو فوراً مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

غریب اور عام شہریوں پر  بوجھ: اپوزیشن لیڈروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مانخورد، دہیسر اور دیگر علاقوں کی ان قیمتی زمینوں پر پرائیویٹ اسپتال یا ادارے قائم ہونے سے علاج کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا جس کے باعث غریب اور متوسط طبقے کیلئے علاج کا خرچ برداشت کرنا ناممکن ہو جائے گا۔

عوامی املاک کی لوٹ کا الزام: ۶۰۰ ؍کروڑ روپے کی عوامی املاک کو ۳۰ ؍سال کی طویل مدت کیلئے نجی شعبے کے حوالے کرنے کے اس فیصلے کے خلاف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے شدید عوامی تحریک اور احتجاج کا انتباہ دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK