رشی کیش گانگورڈے، سومناتھ چوہان اور گجانن شیلکے سمیت۱۵؍ افراد کیخلاف کارروائی، پولیس کا کہنا ہے کہ امیدواروں نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کے بعد احتجاج ملتوی کرنے کا مکتوب دیا تھا۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 12:35 PM IST | Agency | Pune
رشی کیش گانگورڈے، سومناتھ چوہان اور گجانن شیلکے سمیت۱۵؍ افراد کیخلاف کارروائی، پولیس کا کہنا ہے کہ امیدواروں نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کے بعد احتجاج ملتوی کرنے کا مکتوب دیا تھا۔
یہاں ایس ایم جوشی پل پر احتجاج کرنے والے ۱۵؍ افراد کے خلاف وِشرا م باغ پولیس نے کیس درج کر لیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کیلئے تحریری درخواست دینے کے بعد طلبہ نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران ان کے تمام مطالبات منظور کر لئے گئے تھے۔ اسلئے طلبہ نے احتجاج ملتوی کرنے کے سلسلے میں پولیس کمشنر کو تحریری خط بھی دیا تھا۔ تاہم، مثبت بات چیت کے بعد واپس آنے کے باوجود پولیس کو پیشگی اطلاع دیے بغیر اچانک احتجاج کیا گیا۔ پولیس نے حکومت کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے، غیر قانونی طور پر بھیڑ جمع کرنے اور ٹریفک میں رکاوٹ پیدا کرنے سمیت مختلف دفعات کے تحت ۱۵؍افراد کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ان افراد میں روہت پوار کا نام شامل نہیں ہے جو اِس احتجاج کو بھرپور طریقے سے حمایت دے رہے ہیں۔
کن افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے؟
کیس میں نامزد افراد کے نام یہ ہیں:(۱) پرمود پاٹل(۲) اکشے کامبلے(۳) انیکیت دیشمانے(۴) پروین مہادیو پاٹل(۵) رشی کیش گانگورڈے(۶) پرینکا چودھری(۷) نتن گیتے(۸) سومناتھ چوہان(۹) اومکار پاٹل(۱۰) گجانن شیلکے(۱۱) اجیت کاکڑے(۱۲) سدھارتھ پنچانگے(۱۳) سنکیت کنسے(۱۴) سدھارتھ جامبھولکر(۱۵) صاحب راؤ کشیرساگر۔ایس ایم جوشی پل کے قریب احتجاج کی تیاری کرنے اور سڑک پر مظاہرہ کرنے کے الزامات کے تحت وشرا م باغ پولیس نے ان۱۵؍ افراد کے خلاف کیس درج کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر: احتجاج سے قبل دہلی میں ایس ایف آئی کے ۴۰۰؍ سے زائد ارکان، وکلا گرفتار
پولیس نے کارروائی کیوں کی ہے؟
پونے کے نو پیٹھ علاقے میں واقع اندولال کمپلیکس کے سامنے یکم اکتوبر کو طلبہ کے احتجاج کے سلسلے میں یہ کارروائی کی گئی۔ پولیس کا الزام ہے کہ احتجاج کی وجہ سے ٹریفک میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی۔ پولیس کے مطابق، طلبہ کے نمائندے پرمود پاٹل اور دیگر طلبہ نے احتجاج کی اجازت حاصل کرنے کیلئے۲۵؍ ستمبر کو پونے پولیس کمشنر کے دفتر میں ایک تحریری درخواست دی تھی۔ اس درخواست میں الکا ٹاکیز چوک، اہلیا اسٹڈی روم اور ایس ایم جوشی پل، ان ۳؍ مقامات پر احتجاج کرنے کے متبادل پیش کیے گئے تھے۔بات چیت کے بعد۲؍ اکتوبر کو صبح۱۰؍بجے ایس ایم جوشی پل کے قریب احتجاج کرنے کی مشروط اجازت دی گئی تھی۔
دریں اثناء۳۰؍ ستمبر کو طلبہ اور ان کے نمائندوں کے ایک وفد نے ممبئی میں وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی۔ اس میں طلبہ کے مطالبات پر مثبت بات چیت ہوئی اور مطالبات منظور ہونے کے بعد طلبہ نے۲؍ اکتوبر کو ہونے والا مجوزہ احتجاج ملتوی کرنے کے سلسلے میں پولیس کمشنر کے دفتر کو تحریری خط دیا تھا۔ اس کے بعد طلبہ کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیا گیا تھا کہ احتجاج کے لئے دی گئی اجازت منسوخ کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو کی دوسیٹوں پرضمنی انتخابات میں وزیراعلیٰ وجے کی ’ٹی وی کے‘ کامیاب
اجازت منسوخ ہونے کے باوجود احتجاج کرنے کا الزام
پولیس کی شکایت کے مطابق، یکم اکتوبر کو دوپہر تقریباً۴؍ بجے پرمود پاٹل، اکشے کامبلے، انیکیت دیشمانے اور دیگر طلبہ پونے کے نو پیٹھ علاقے میں واقع اندولال کمپلیکس کے سامنے عوامی سڑک پر جمع ہوئے تھے۔ اس دوران مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) اور مہاراشٹر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ پولیس کا یہ بھی الزام ہے کہ مظاہرین نے سڑک بند کرنے کے نعرے لگائے۔احتجاج کی اطلاع ملنے کے بعد وشرا م باغ پولیس موقع پر پہنچی۔ سینئر پولیس انسپکٹر نے مظاہرین کو احتجاج نہ کرنے اور اپنے مطالبات قانونی طریقے سے پیش کرنے کی ہدایت دی۔مظاہرین کو پونے شہر میں نافذ امتناعی احکامات اور احتجاج کی اجازت منسوخ کیے جانے کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا تھا۔ تاہم، شکایت کے مطابق، ان ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے باعث علاقے میں ٹریفک جام ہوا اور عوامی امن و امان متاثر ہوا۔پولیس کے مطابق، پونے شہر میں۲۹؍ ستمبر سے۱۲؍ اکتوبر تک امتناعی احکامات نافذ تھے۔ اس کے علاوہ شاستری روڈ اور اسکے آس پاس کے علاقوں میں احتجاج، جلسے، جلوس اور راستہ روکو تحریک پر پابندیاں عائد تھیں۔ الزام ہے کہ ان پابندیوں کے باوجود احتجاج کیا گیا۔
روہت پوار کی پونے پولیس پر تنقید
این سی پی (شردپوار) کے رکن اسمبلی اور اس احتجاج میں پیش پیش رہنے والے روہت پوار نے ایکس پر لکھا کہ ’’پونے کے پولیس کمشنر صاحب! آخر کتنے جھوٹ بولیں گے؟ کتنی جھوٹی ایف آئی آر درج کریں گے؟طلبہ کی ستیہ گرہ تحریک کا آغاز یکم اکتوبر کو ہوا تھا۔ اس دن اندولال کمپلیکس کے قریب رشی کیش گانگورڈے کے ساتھ اومکار پاٹل، گجانن شیلکے، سومناتھ چوہان اور سنکیت کنسے موجود ہی نہیں تھے۔ وہ اپنے اپنے گاؤں میں تھے، اسکے باوجود پولیس کو وہ اس دن اندولال کمپلیکس کے قریب کیسے نظر آگئے؟ طلبہ کی تفصیلات درج کرتے وقت پرمود پاٹل کی جنس ’خاتون‘ درج کی گئی ہے، جبکہ پریانکا چودھری کی جنس مرد لکھی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں اتنی غلطیاں؟ یہ سب دیکھ کر تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کہیں ایف آئی آر درج کرنے والا افسر بھی پیپر لیک کرکے تو نہیں آیا تھا؟ خیر، جب پولیس اوپر بیٹھے اپنے آقاؤں کے احکامات پر چلنے لگتی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ طلبہ پر دباؤ ڈالنے کی حکومت کی حکمت عملی ہے، لیکن طلبہ ڈریں گے نہیں۔ یہ تمام مقدمات قابلِ ضمانت ہیں اور ہم نے وکلا کی ایک بڑی ٹیم تیار کر رکھی ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ ایسے جھوٹے کیس درج کرنے کے بجائے بدعنوان بھیمنور کو عہدہ سے برطرف کرے۔ کیا وہ حکومت کا داماد ہے؟
کون سی دفعات لگائی گئی ہیں؟
پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا۲۰۲۳ءکی دفعات۱۸۹(۲)، ۱۸۹(۳)، ۱۸۹(۵)، ۱۲۶(۲)، ۲۲۳، ۲۷۰؍اور۲۹۲ نیز مہاراشٹر پولیس ایکٹ کی دفعات۳۷(۱)،۳۷(۳)،۱۳۵،۱۱۲؍ اور۱۱۷؍ کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ مزید تفتیش وشرا م باغ پولیس اسٹیشن کے پی آئی وکاس بھنگاردیوے کر رہے ہیں۔