Updated: October 10, 2026, 11:15 AM IST
| New Delhi
ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ’’لیونگ پلانیٹ رپورٹ ۲۰۲۶‘‘ کے مطابق ۱۹۷۰ء سے ۲۰۲۲ء کے درمیان زیرِ نگرانی فقاریہ (ریڑھ کی ہڈی والے) جانوروں کی آبادی کے اوسط حجم میں ۷۳؍ فیصد کمی ہوئی ہے۔ میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام میں یہ کمی سب سے زیادہ ۸۵؍ فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) کی دو سالہ ’’لیونگ پلانیٹ رپورٹ ۲۰۲۶‘‘ کے مطابق ۱۹۷۰ء سے ۲۰۲۲ء کے درمیان ۵۲؍ برس کے دوران زیرِ نگرانی فقاری جانوروں، جن میں ممالیہ، مچھلیاں، پرندے اور حشرات الارض شامل ہیں، کی آبادی کے اوسط حجم میں ۷۳؍ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ’’لیونگ پلانیٹ انڈیکس‘‘ (LPI) کے تحت وقت کے ساتھ فقاری جانوروں کی جنگلی انواع کی آبادی کے حجم میں اوسط تبدیلیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس میں آبادی کی مطلق تعداد کے بجائے ان کی نسبتاً کثرت میں ہونے والی تبدیلیوں کو ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جائزے کے عرصے کے دوران ان آبادیوں کے حجم میں اوسطاً ۷۳؍ فیصد کمی ہوئی، تاہم یہ اعداد و شمار ہلاک یا ختم ہونے والے انفرادی جانوروں کی تعداد یا ختم ہونے والی آبادیوں کی تعداد کی عکاسی نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی آباد کاروں کے حملے میں ایک فلسطینی شہید،۱۶؍افراد زخمی
’’لیونگ پلانیٹ رپورٹ‘‘ کے مطابق رہائش گاہوں کا خاتمہ اور ان کا انحطاط، قدرتی وسائل کا حد سے زیادہ استعمال، موسمیاتی تبدیلی، حملہ آور انواع کے اثرات، آلودگی اور بیماریاں ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات کی آبادیوں میں تبدیلی کے اہم اسباب ہیں۔ دنیا میں خوراک کی پیداوار اور استعمال کا طریقہ حیاتیاتی تنوع میں کمی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ خوراک اور زرعی نظام رہائش گاہوں کی تباہی اور قدرتی وسائل کے حد سے زیادہ استعمال کا سب سے بڑا سبب ہے، جبکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی اس کا بڑا حصہ ہے۔ رپورٹ میں جنگلی حیات کی آبادیوں میں مسلسل کمی کے رجحان کی نشاندہی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر معاشرہ توانائی، خوراک اور مالیاتی نظام میں مثبت تبدیلی کیلئے واضح راستہ اختیار کرے تو قدرتی ماحول دوبارہ بحال ہوسکتا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف انڈیا کے سیکریٹری جنرل اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر روی سنگھ نے کہا کہ ’’لیونگ پلانیٹ رپورٹ ۲۰۲۶‘‘ حیاتیاتی تنوع کے بحران کی سنگینی کی یاد دہانی کے ساتھ امید کا پیغام بھی دیتی ہے۔ لیونگ پلانیٹ انڈیکس جنگلی حیات کی زیرِ نگرانی آبادیوں میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ کمی ناگزیر نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اور دنیا بھر میں شیروں کی آبادی میں اضافے سمیت مختلف انواع کی بحالی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلسل تحفظِ ماحول کی کوششیں، باہمی تعاون اور طویل مدتی عزم کیا نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے: ٹرمپ
لندن کی زولوجیکل سوسائٹی کی جانب سے تیار کردہ لیونگ پلانیٹ انڈیکس میں ۱۹۷۰ء سے ۲۰۲۲ء تک ۵۷۹۰؍ فقاری انواع کی ۳۵؍ ہزار ۸۰۳؍ آبادیوں کے رجحانات شامل ہیں۔ سب سے زیادہ کمی میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام میں ۸۵؍ فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ خشکی کے ماحولیاتی نظام میں ۶۹؍ فیصد اور سمندری ماحولیاتی نظام میں ۵۹؍ فیصد کمی ہوئی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے کہا کہ مجموعی رجحان اگرچہ منفی ہے کیونکہ آبادیوں میں کمی کے رجحانات نمایاں ہیں، تاہم لیونگ پلانیٹ انڈیکس میں شامل نصف آبادیوں کی تعداد مستحکم ہے یا ان میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹ میں سبز کچھووں، بلیوفن ٹونا مچھلی، شیروں اور جنوبی افریقہ کے ہاتھیوں کی آبادی میں بحالی کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ہدف پر مبنی تحفظِ ماحول کی کوششیں مؤثر نتائج دے سکتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں جنگلی شیروں کی تعداد ۲۰۱۰ء میں ۳؍ ہزار ۲۰۰؍ سے بڑھ کر ۲۰۲۵ء میں تقریباً ۵؍ ہزار ۷۰۰؍ ہوگئی۔