وکھرولی میں قبرستان کی زمین کے لئے دھرنا اور ایک وارڈ کی اسسٹنٹ میونسپل کمشنر (اے ایم سی) سے میٹنگ کے بعد کانجور مارگ میں بی ایم سی کی جانب سے ایک غیر واضح بورڈ آویزاں کردیا گیا ہے۔
بی ایم سی کا بورڈ۔ تصویر:آئی این این
وکھرولی میں قبرستان کی زمین کے لئے دھرنا اور ایک وارڈ کی اسسٹنٹ میونسپل کمشنر (اے ایم سی) سے میٹنگ کے بعد کانجور مارگ میں بی ایم سی کی جانب سے ایک غیر واضح بورڈ آویزاں کردیا گیا ہے۔ اس پر قبرستان کے ریزرویشن وغیرہ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، محض یہ لکھا گیا ہے کہ یہ زمین بی ایم سی کی ملکیت ہے، اس پر ناجائز قبضہ نہ کیا جائے، حالانکہ بتایا جارہا ہے کہ حکمت کے تحت ایسا بورڈ لگایا گیا ہے تاکہ قبرستان کے مخالفین کو ہنگامہ آرائی اور مخالفت کا موقع نہ مل سکے۔قبرستان کی زمین اور پر بورڈ لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے قبرستان کمیٹی اور یہاں بھیم سینا کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور ایک وارڈ کی اے ایم سی کے ہمراہ میٹنگ کی گئی۔ اس میں بی ایم سی کی جانب سے ۶؍ماہ میں کارروائی مکمل کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔
یاد رہے کہ مقامی مسلمان۶۰؍ برس سے قبرستان کی زمین کیلئے کوشاں ہیں مگر کسی نہ کسی سبب یہ معاملہ التواء کا شکار ہوتا گیا اور آج بھی یہاں کے مسلمان میت کی تدفین کے لئے مجبورا گھاٹکوپر قبرستان جاتے ہیں ، بارش میں اس مشکل میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ اس دفعہ کی جانے والی کوشش میں انہیں کامیابی ملتی ہے یا مزید انتظار کرنا پڑتا ہے۔قبرستان کی زمین کے حصول کے لئے پیش پیش رہنے والے واجد قریشی کے مطابق کی گئی کوشش کے نتیجے میں کچھ پہل ہوئی اور اس زمین پر بی ایم سی کی جانب سے بورڈ لگادیا گیا، یہ اطمینان دلانے والی پیش رفت ہے مگر ہم سب اس پر مطمئن ہوکر بیٹھنے والے نہیں، کوشش جاری رہے گی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مسئلے میں اجتماعیت کی ضرورت ہے تاکہ آواز میں قوت پیدا ہو اور کسی بھی صورت یہ مسئلہ حل ہو۔بھیم یوا سینا کے سربراہ مانے کے مطابق ہم سب مل کر اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔ بی ایم سی کی جانب سے اس معاملےمیں بورڈلگانے کے بعد کیا طریقہ اپنایا جاتا ہے؟ اس پر نگاہ رکھی جارہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قبرستان ہو یا شمشان ، عام شہری کاقانونی حق ہے ، وہ ملنا ہی چاہئے۔