Updated: November 03, 2026, 3:02 PM IST
| Mumbai
عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم عوامی مسئلے کو مذہبی یا سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔ عدالت نے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کو دیا مرزا کی حذف کی گئی ویڈیو دوبارہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
دیامرزا۔ تصویر:آئی این این
بامبے ہائی کورٹ نے بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا کے دیوالی کے موقع پر پٹاخے نہ جلانے کی اپیل پر مبنی ویڈیو کو لے کر بی جے پی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے کیے گئے تبصروں پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم عوامی مسئلے کو مذہبی یا سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔ عدالت نے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کو دیا مرزا کی حذف کی گئی ویڈیو دوبارہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
یہ معاملہ دیوالی کے موقع پر ممبئی میں فضائی اور صوتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے شروع کی گئی بی ایم سی کی عوامی بیداری مہم سے متعلق ہے۔ اس مہم کے تحت اداکارہ دیا مرزا سمیت کئی معروف شخصیات کو شہریوں میں ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ دیا مرزا نے اپنی ویڈیو میں ممبئی کے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ عوامی سڑکوں پر پٹاخے نہ جلائیں اور عدالت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا تعاون پیش کریں۔
اس مہم میں اداکارہ مادھوری دکشت، اداکارہ نشی گندھا واڈ اور ہندوستانی کرکٹر اجنکیا رہانے بھی شامل تھے۔ ان شخصیات نے پٹاخوں سے پیدا ہونے والی فضائی اور صوتی آلودگی کے مضر اثرات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا تھا۔ بی ایم سی کی جانب سے یہ مہم عدالت کی ان ہدایات کے بعد شروع کی گئی تھی جن میں تہواروں کے دوران شور اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے عوامی بیداری پیدا کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ دیا مرزا کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ممبئی بی جے پی کے صدر امیت ساٹم نے اداکارہ کی مہم میں شمولیت پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ دیا مرزا دیوالی منانے کے طریقوں کے بارے میں لوگوں کو مشورہ کیوں دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو دیوالی منانے کے طریقے سکھانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہندوستانی روایات اور تہذیب اپنی گہری جڑیں رکھتی ہیں۔
ممبئی کی میئر ریتو تاؤڑے نے بھی اداکارہ پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ہندو مخالف اور حکومت مخالف موقف رکھنے والی شخصیت قرار دیا تھا۔ اس سیاسی مخالفت کے بعد بی ایم سی نے دیا مرزا کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہٹا دی تھی، جس کے بعد یہ معاملہ سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع بن گیا۔مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے نے بھی اس معاملے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ دیا مرزا دیوالی کے موقع پر پٹاخے نہ جلانے کی بات کرتی ہیں، لیکن عید، محرم اور بقرعید جیسے تہواروں کے موقع پر ماحول دوست طریقے اپنانے کی اپیل کیوں نہیں کرتیں۔ انہوں نے اس معاملے کو وزیر اعلیٰ کے سامنے اٹھانے کی بات بھی کہی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کی مداخلت پر بھی آئزن کوٹ نیتن یاہو کے اتحادی نہیں بنیں گے: رپورٹ
اس تنازع پر سماعت کے دوران جسٹس گریش کلکرنی اور جسٹس ڈاکٹر نیلا گوکھلے پر مشتمل ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے سیاسی لیڈروں کے تبصروں پر شدید تشویش ظاہر کی۔ بنچ نے کہا کہ وہ بعض سیاست دانوں کے غیر ضروری تبصروں سے سخت پریشان ہے۔ عدالت نے یاد دلایا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور کسی بھی شہری کو مذہب یا ذات کی بنیاد پر کسی عوامی سرگرمی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ ہر شہری سے تعلق رکھتا ہے، کیونکہ ہر شخص، خواہ اس کا مذہب یا ذات کچھ بھی ہو، ایک ہی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ جسٹس نیلا گوکھلے نے واضح کیا کہ یہ معاملہ مکمل طور پر ماحولیات سے متعلق ہے اور اسے کسی دوسرے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
جسٹس گریش کلکرنی نے کہا کہ دیا مرزا نے عدالت کی ہدایات کے مطابق کام کیا تھا۔ عدالت کے مطابق کچھ سیاست دانوں اور عوامی نمائندوں نے سابقہ عدالتی احکامات اور مہم کے اصل مقصد کو سمجھے بغیر تبصرے کیے۔ بنچ نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ ماحولیات اور عوامی صحت سے متعلق ایک مثبت مہم کو غیر ضروری طور پر مذہبی اور سیاسی تنازع میں تبدیل کردیا گیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ بی ایم سی نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے معروف شخصیات کو مہم میں شامل کرکے ایک مؤثر قدم اٹھایا تھا۔ ان شخصیات کا مقصد عوام میں اتحاد، باہمی احترام اور ماحولیاتی ذمہ داری کا پیغام پہنچانا تھا۔ عدالت کے مطابق ایسی مہم میں گروہ بندی یا تفریق کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:سچترا سین ان معنوں میں خود کو خوش نصیب سمجھتی تھیں کہ ان کی پہلی ہندی فلم دلیپ کمار کےساتھ تھی
عدالت نے یہ بھی کہا کہ ممبئی جیسے شہر کی بنیاد باہمی اتحاد، یکجہتی اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے کے جذبے پر قائم ہے۔ چند غیر ضروری تبصروں کی وجہ سے اس ماحول کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے بی ایم سی کے ویڈیو حذف کرنے کے فیصلے پر بھی ناراضگی ظاہر کی اور ہدایت دی کہ دیا مرزا کی ویڈیو دوبارہ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جائے۔یہ معاملہ تہواروں کے دوران شور اور فضائی آلودگی سے متعلق بامبے ہائی کورٹ کی ازخود مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ عدالت نے ۲۶؍ اکتوبر کو بی ایم سی کو ہدایت دی تھی کہ وہ معروف شخصیات کی مدد سے عوام میں پٹاخوں کے مضر اثرات کے بارے میں بیداری پیدا کرے۔
دوسری جانب دیا مرزا نے اپنی ویڈیو حذف کیے جانے پر حیرت اور اعتراض ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ ویڈیو انہوں نے بامبے ہائی کورٹ اور بی ایم سی کی ہدایت پر عوامی مفاد میں ریکارڈ کروائی تھی۔ اداکارہ کے مطابق فضائی آلودگی ایک سنگین مسئلہ ہے اور اسے کم کرنے کی ہر کوشش کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عوامی صحت سے ہے۔