Updated: October 06, 2026, 2:05 PM IST
| Mumbai
بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر فہرستوں سے نام حذف کرنے کے عمل پر عبوری روک لگانے سے انکار کردیا۔ عدالت نے کہا کہ ایس آئی آر سے متعلق معاملات پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں اور اعلیٰ عدالت نے دیگر ہائی کورٹس سے ایسی کارروائیوں کو فی الحال ملتوی رکھنے کی درخواست کی ہے۔ چیف جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنا کی بنچ نے معاملے کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔ درخواست میں ووٹروں کے نام مبینہ طور پر من مانے طریقے سے حذف کرنے اور انتخابی قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کی زیرِ سماعت کارروائی کے باعث ہائی کورٹ نے مداخلت سے گریز کیا۔
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر فہرستوں سے نام حذف کیے جانے کے عمل پر عبوری روک لگانے سے انکار کردیا۔ عدالت نے کہا کہ ایس آئی آر سے متعلق معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ کے سامنے زیرِ غور ہے اور اعلیٰ عدالت نے ہائی کورٹس سے متعلقہ کارروائیوں کو فی الحال التوا میں رکھنے کی درخواست کی ہے۔
چیف جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنا پر مشتمل ڈویژن بنچ ونچت بہوجن اگھاڑی کے یوتھ صدر ساگر رمیش گوائی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کررہی تھی۔
درخواست میں مہاراشٹر میں گھر گھر ووٹر تصدیقی مہم کے دوران مبینہ طریقہ کار کی خلاف ورزیوں اور ووٹر فہرست سے نام من مانے طریقے سے حذف کیے جانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے شفافیت کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندگی قانون ۱۹۵۰ء کی پابندی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’بنگال میں۹۰؍ لاکھ نام حذف ہوگئے مگرسپریم کورٹ نے روک لگانے کی ضرورت نہیں محسوس کی‘‘
درخواست میں سپریم کورٹ کے ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) سے متعلق فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے یک طرفہ طور پر ووٹروں کے نام حذف کرنے کی مخالفت کی گئی ہے۔ اس میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ بوتھ لیول افسران (بی ایل اوز) الیکشن کمیشن کی کلاز ۲(ڈی) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے دستاویزی ثبوت طلب کررہے ہیں جن کا مطالبہ مقررہ طریقہ کار کے تحت نہیں کیا جاسکتا۔
درخواست میں ووٹر کا نام حذف کرنے سے پہلے سماعت کا مطالبہ
درخواست گزار کا موقف ہے کہ کسی ووٹر کو غیر حاضر، منتقل شدہ، متوفی یا ڈپلیکیٹ قرار دینے کی بنیاد پر اس کا نام خودکار طور پر ووٹر فہرست سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔
درخواست کے مطابق، کسی بھی ووٹر کا نام حذف کرنے سے قبل الیکشن رجسٹریشن افسر کی جانب سے باضابطہ سماعت کی جانی چاہئے اور اس کے بعد تفصیلی حکم جاری کیا جانا ضروری ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتخابی حکام کے پاس کسی شخص کی شہریت کا حتمی تعین کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اگر کسی ووٹر کی شہریت سے متعلق شبہ موجود ہو اور وہ حل نہ ہوسکے تو معاملہ متعلقہ مرکزی حکام کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: ہائی کورٹ نے الہاس نگر کے نامزد کارپوریٹروں کے انتخاب پر اسٹے لگا دیا
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیا
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ آشوتوش کمبھکونی نے بنچ کو بتایا کہ سپریم کورٹ ۸؍ اکتوبر کو ایس آئی آر سے متعلق مرکزی چیلنج کی سماعت کرنے والی ہے۔
انہوں نے دلیل دی کہ سپریم کورٹ کا عبوری حکم نافذ ہے، جس کے تحت مختلف ہائی کورٹس سے ایس آئی آر سے متعلق متوازی کارروائیوں کو آگے نہ بڑھانے کی درخواست کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے ۱۱؍ نومبر ۲۰۲۵ء کے حکم کا حوالہ بھی دیا۔ اس حکم کے پانچویں پیراگراف میں کہا گیا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ بہار، مغربی بنگال، تمل ناڈو اور پڈوچیری سمیت مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے رہی ہے، اس لیے متعلقہ ہائی کورٹس سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنی اپنی ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق کارروائیوں کو التوا میں رکھیں۔
یہ بھی پڑھئے:اس ماہ ریپو ریٹ میں ۲۵ء۰؍ پوائنٹس اضافے کا امکان
درخواست گزار نے مہاراشٹر کے معاملے کو الگ قرار دیا
درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈووکیٹ پرکاش امبیڈکر نے الیکشن کمیشن کے موقف کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مذکورہ حکم مہاراشٹر کے معاملے پر لاگو نہیں ہوتا اور موجودہ درخواست کی نوعیت بھی مختلف ہے۔
امبیڈکر نے عدالت سے درخواست کی کہ سپریم کورٹ میں اگلی سماعت تک کم از کم مہاراشٹر میں ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے کے عمل پر عبوری روک عائد کی جائے۔
تاہم، بنچ نے سپریم کورٹ کی ہدایت کے پیش نظر اس مرحلے پر مداخلت سے انکار کردیا۔
عدالت نے کہا، ’’اگر سپریم کورٹ نے ایک مخصوص درخواست کی ہے اور اس کے باوجود ہائی کورٹ کارروائی جاری رکھے، تو ہم اسے کیسے روک سکتے ہیں؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ بالکل نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
بنچ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ میں ایس آئی آر سے متعلق اگلی سماعت ۸؍ اکتوبر کو مقرر ہے اور یہ تاریخ زیادہ دور نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر بامبے ہائی کورٹ نے معاملے کی مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔