Inquilab Logo Happiest Places to Work

بوسنیا نسل کشی کے دوران اختیار کئے گئے فرار راستے پرامن مارچ،۶۰۰۰؍ افراد کی شرکت

Updated: July 08, 2026, 10:05 PM IST | Bosnia

بوسنیا نسل کشی کے دوران فرار کیلئے اختیار کئے جانے والے راستہ پر امن مارچ میں ۶۰۰۰؍ افراد نے شرکت کی، ۱۹۹۵ء میں قتل عام سے بچنے کیلئے بوسنیائی شہریوں نے اسی راستے کا استعمال کیا تھا،تین روزہ مارچ میں اسی راستے پر چل کر اس فاصلے کو دوبارہ طے کیا جائے گا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ہزاروں افراد نے بدھ کو امن مارچ میں شرکت کی، جو اس جنگل کی پگڈنڈی پر تھا جو۱۹۹۵ء کی سریبرینیتسانسل کشی سے بچنے کیلئےفرار ہونے والے بوسنیائی شہریوں نے شمال مشرقی شہر توزلا تک پہنچنے کے لیے استعمال کی تھی۔نزک قصبے میں۶۰۰۰؍ سے زائد شرکاء اس سالانہ تین روزہ مارچ کے لیےاکٹھا ہوئے، جو اس نسل کشی کی۳۱؍ویں برسی کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریبات کا حصہ ہے، جس میں کم از کم۸۳۷۲؍ بوسنیائی شہری سرب افواج کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔یہ مارچ اس جنگل سے گزرنے والے راستے سے گزرے گاجو مقامی طور پر ’’موت کا مارچ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جسے ہزاروں بوسنیائیوں نے جولائی۱۹۹۵ء میں ہونے والے قتل عام سے بچنے کی کوشش میں استعمال کیا تھا۔شرکاء ہر روز۳۵؍ کلومیٹر کا فاصلہ طے کریں گے، جس کے بعد وہ۱۰؍ جولائی کو پوٹوچاری میموریل قبرستان پہنچیں گے۔ان میں وہ زندہ بچ جانے والے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے فرار کے لیے یہی راستہ استعمال کیا تھا۔شرکاء نے بوسنیا اور ہرزیگووینا کا جھنڈا، جنگی دور کے بوسنیائی جھنڈے جن پر سنہری للی کا نشان تھا، نیز ترکی اور فلسطین کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ وسطی بوسنیائی شہر تراونک سے آئے عسمیت سلمان نے کہا کہ، ہم زندہ بچ گئے اور اپنا وجود برقرار رکھا، ہر شخص کو کم از کم ایک بار اس مارچ میں حصہ لینا چاہیے۔انہوں نے انادولو نیوز ایجنسی کو بتایا، ’’مجھے نہیں معلوم دوسرے کیسا محسوس کرتے ہیں، لیکن میرے لیے ہر بار یہ زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر بھی، جب تک میں قابل ہوں، آتا رہوں گا۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ اسے کبھی فراموش نہ ہونے دیں۔ ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا یا پھر کیا ہو سکتا ہے۔‘‘ مزید برآں سلمان نے کہا کہ وہ مارچ کے دوران فلسطین کا جھنڈا اٹھائیں گے تاکہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر سکیں، جنہیں وہ اسرائیل کی نسل کشی قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی حملے کے بعد ایران کے اعلیٰ مذاکرات کا ر کا امریکہ کو سخت پیغام

عمرہ ہاشمی، جو اصل میں سربینیکا کی رہائشی ہیں اور اب آسٹریا میں مقیم ہیں، اپنے شوہر اور بیٹی کے ساتھ مارچ میں شامل ہوئیں۔نسل کشی میں اپنے بہت سے رشتہ داروں کو کھونے والی ہاشمی نے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ میں نے اپنے تجربات کو مکمل طور پرفراموش کردیاہے۔ مجھے یقین ہے کہ راستے کے کچھ حصوں سے گزرنے کے بعد مجھے اس کا اثر زیادہ گہرا محسوس ہوگا۔ مجھے اپنی بیٹی کے ساتھ یہاں ہونے پر فخر ہے۔‘‘ جبکہ ان کے شوہر سید ہاشمی نے کہا کہ انہوں نے سریبرینیتساکے بارے میں بہت سی کہانیاں سنی ہیں اور امید ہے کہ یہ مارچ انہیں بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گا کہ۳۱؍ سال قبل لوگوں نے کیابرداشت کیاتھا۔اس امن مارچ میں بچوں نے بھی شرکت کی، جس میں بوسنیا اور ہرزیگووینا، ترکی اور بہت سے دوسرے ممالک سے شرکاء آئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کیلئے امریکی حمایت میں غیر معمولی کمی ، سروے میں تصدیق

واضح رہے کہ بوسنیائی سرب افواج نے راتکو ملادیچ کی کمان میں۱۱؍ جولائی۱۹۹۵؍ کو سریبرینیتساپر قبضہ کرنے کے بعد، بوسنیائی شہری جو ڈچ امن فوجیوں کے زیرِ انتظام اقوام متحدہ کے اڈے میں پناہ گزیں تھے، بعد ازاں سرب افواج کے حوالے کر دیے گئے۔کل ۸۳۷۲؍بوسنیائی مردوں اور لڑکوں کو بسوں اور ٹرکوں کے ذریعے جنگلات، گوداموں اور کارخانوں میں لے جایا گیا، جہاں انہیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاشوں کو بعد میں ملک بھر میں اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا تاکہ اس جرم کو چھپایا جا سکے۔جنگ کے بعد، اجتماعی قبروں سے برآمد ہونے والی اور شناخت شدہ باقیات کو ہر سال۱۱؍ جولائی کو پوٹوچاری میموریل قبرستان میں سپرد خاک کیا جاتا ہے۔اب تک۶۷۷۲؍ ہلاکتوں کو اس قبرستان میں دفن کیا جا چکا ہے، جبکہ۲۵۰؍ کو ان کے خاندانوں کی درخواست پر مقامی قبرستانوں میں سپرد خاک کیا گیا۔ تاہم نسل کشی کے شکارایک ہزار سے زائد ہلاکت شدگان کی باقیات ابھی تک نہیں ملی ہیں۔
بعد ازاں ایک فیصلے میں، بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے، سابق یوگوسلاویہ کے لیے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل (آئی سی ٹی وائی) کے پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر، سریبرینیتسااس کے گردونواح میں ہونے والے مظالم کو نسل کشی قرار دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK