Updated: July 08, 2026, 10:05 PM IST
| Kolkata
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (PMLA) کے تحت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے تقریباً ۴۴۰؍ کروڑ روپے پر مشتمل تین بینک کھاتے منجمد کر دیے ہیں۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ پارٹی کے کھاتوں سے ایک نجی ایوی ایشن کمپنی کو کروڑوں روپے منتقل کیے گئے، جن سے طیارہ اور ہیلی کاپٹر خریدے گئے اور بعد میں انہیں پارٹی کو لیز پر دیا گیا۔ دوسری جانب ٹی ایم سی نے اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مالی لین دین قانونی طور پر الیکشن کمیشن اور محکمہ انکم ٹیکس کے سامنے ظاہر کیے جا چکے ہیں۔
ممتا بنرجی۔ تصویر: آئی این این
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ کے روز منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (PMLA) کے تحت آل انڈیا ترنمول کانگریس کے تقریباً ۴۲ء۴۴۰؍ کروڑ روپے پر مشتمل تین بینک کھاتوں کو منجمد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ کارروائی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور مشتبہ فنڈ ٹرانسفر سے متعلق جاری تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ ای ڈی کے مطابق، تحقیقات کے دوران کولکاتا اور اس کے اطراف میں واقع پانچ مقامات پر تلاشی لی گئی، جن میں نجی ایوی ایشن کمپنی کیئر ویل ایوی ایشن انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور اس سے وابستہ اداروں کے دفاتر شامل تھے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مغربی بنگال پولیس کے بِدھان نگر سائبر تھانے میں درج ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کی گئی، جس میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، غیر قانونی رقوم کی منتقلی اور پارٹی کے بینک کھاتوں کے استعمال سے متعلق الزامات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کیلئے امریکی حمایت میں غیر معمولی کمی ، سروے میں تصدیق
ای ڈی نے الزام لگایا ہے کہ اپریل ۲۰۲۳ء سے جون ۲۰۲۶ء کے درمیان ٹی ایم سی کے بینک کھاتوں سے تقریباً ۱۶۰؍ کروڑ روپے کیئر ویل ایوی ایشن اور اس سے منسلک ایک کمپنی کو منتقل کیے گئے۔ بعد ازاں ان کمپنیوں نے مبینہ طور پر تقریباً ۸۳؍ کروڑ روپے ایک اور متعلقہ ادارے کو منتقل کیے، جس کے ذریعے ایک Embraer Legacy 600 کاروباری طیارہ اور Agusta 109 Grand New ہیلی کاپٹر خریدا گیا۔ ایجنسی کے مطابق ان اثاثوں کی خریداری پر تقریباً ۱۱۲؍ کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
ای ڈی نے مزید دعویٰ کیا کہ جزائر کیمن میں قائم ایک کمپنی نے ۲۰۲۳ء میں ہیلی کاپٹر کی خریداری کے لیے تقریباً ۷ء۱؍ ملین امریکی ڈالر (تقریباً ۱۴؍ کروڑ روپے) کا غیر محفوظ قرض فراہم کیا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ بعد میں یہی طیارہ اور ہیلی کاپٹر ٹی ایم سی کو لیز پر دیے گئے، حالانکہ ان کی خریداری کے لیے استعمال ہونے والی رقم پارٹی کے بینک کھاتوں سے منتقل کی گئی تھی۔ ای ڈی کے مطابق، پارٹی نے بعد میں ان اثاثوں کے استعمال کے عوض مزید ادائیگیاں بھی کیں۔
دوسری جانب آل انڈیا ترنمول کانگریس نے ای ڈی کی کارروائی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ’’سیاسی طور پر محرک‘‘ قرار دیا۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ’’سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال موجودہ سیاست کی پہچان بن چکا ہے۔ یہ جمہوری اداروں اور منصفانہ سیاسی عمل پر سنگین حملہ ہے۔‘‘ ٹی ایم سی نے یہ بھی کہا کہ اس کے تمام بینک کھاتوں میں موجود رقوم اور عطیات کی مکمل تفصیلات قانون کے مطابق الیکشن کمیشن آف انڈیا اور محکمہ انکم ٹیکس کو فراہم کی جاتی رہی ہیں اور یہ معلومات عوامی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی بنگال کی سیاست میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور ریاست کی سیاست مسلسل قومی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔