امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا دعویٰ مذاق تھا، جبکہ ایران نےطنز کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو ٹویٹ، انتخابی تقریریا بحری بیڑے سے فتح نہیں کیا جاسکتا۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 4:02 PM IST | Washington
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا دعویٰ مذاق تھا، جبکہ ایران نےطنز کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو ٹویٹ، انتخابی تقریریا بحری بیڑے سے فتح نہیں کیا جاسکتا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک کے گارڈن سٹی میں سیاسی ریلی کے دوران کہا کہ ’’ایران کو مکمل شکست دینے کے بعد بہت جلد میں آبنائے ہرمز کو ریاستہائے متحدہ کا علاقہ قرار دوں گا۔‘‘تاہم امریکی میڈیا نے جمعہ کو کہا کہ یہ ایک مذاق تھا۔ وال ا سٹریٹ جرنل کے رپورٹر برائن شوارٹز نے وہائٹ ہاؤس کے ایک سینئر نامعلوم اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ صدر نے اس اقدام پر اپنے مشیروں سے کوئی ملاقات نہیں کی اور یہ بات محض مذاق تھی۔ شوارٹز، جو خود تقریر میں شریک تھے، نے بتایا کہ ٹرمپ نے ہنستے ہوئے یہ بات کہی لیکن پھر اس پر اصرار کیا کہ یہ سچ ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اس آبی گزرگاہ پر مکمل ناکہ بندی رکھتا ہے اور کہا کہ ’’جب تک ہم نہیں چاہیں کوئی جہاز نہیں گزر سکتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: برطانوی خیراتی ادارے نےعطیات سابق اسرائیلی فوجیوں کی فاؤنڈیشن تک پہنچائے: تحقیق
بعد ازاں ایران نے فوری طور پر اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ ایرانی فوجی کمانڈ نے جمعرات کو امریکی کنٹرول کے بیانات کو ’’بے بنیاد جھوٹ اور افترا‘‘قرار دیا۔ اس کے علاوہ، ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آدی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سخت الفاظ میں کہا، ’’آبنائے ہرمز کو کسی ٹویٹ، طیارہ بردار جہاز، حکم یا انتخابی تقریر کے ذریعے فتح نہیں کیا جا سکتا۔ یہ آبنائے ایران کی تھی، ہے اور رہے گی۔ یہ صرف ایران کے حکم پر بند اور کھلی ہوگی۔ جب تک آپ اپنی شکست کی حقیقت قبول نہیں کرتے اور اپنی خیالی باتوں کو ترک نہیں کرتے، ایران ناکہ بندی جاری رکھے گا۔‘‘
مزید برآںانہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ جنگ میں اپنی شکست تسلیم کرے۔ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ جب تک امریکہ اس خطے میں مداخلت، بحری ناکہ بندی اور جون کے فریم ورک معاہدے کی شرائط پوری نہیں کرتا، آبنائے دوبارہ نہیں کھلے گی۔ ایران کی اعلیٰ جنگی کوآرڈینیٹنگ باڈی ’’خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر‘‘ کے ترجمان نے جمعہ کو کہا کہ ’’ایران کی اجازت اور نگرانی کے بغیر کسی جہاز کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فلم ’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ کے خلاف فلسطین حامی کارکنوں کی بائیکاٹ مہم
واضح رہے کہ اعداد و شمار کے مطابق، جنگ شروع ہونے کے۱۶۶؍ دنوں میں۱۲؍ اگست تک کل ۳۷۷۱؍جہاز آبنائے سے گزرے، جو جنگ سے پہلے کی روزانہ۱۳۰؍ سے زائد جہازوں کی ٹریفک کا صرف۲۰؍ فیصد ہے۔ دریں اثناءجمعہ کو صرف دو جہاز گزرے ،ایک اناج لے جانے والا ایرانی بحری حدود میں داخل ہوا اور ایک خالی بحری جہاز مخالفسمت گیا، جبکہ ایک ایل پی جی ٹینکر بھی دیکھا گیا، مگر کوئی خام تیل کی کھیپ نظر نہیں آئی۔ تاہم، کچھ جہاز ٹرانسپونڈر بند کرکے چھپ کر گزر سکتے ہیں۔متحدہ عرب امارات کی قومی تیل کمپنی نے بتایا کہ جمعہ کی شام اس کے دو جہاز آبنائے میں گزرتے ہوئے حملے کی زد میں آئے، جبکہ اماراتی خبر رساں ایجنسی نے مزید ایک جہاز پر حملے کی اطلاع دی۔ ایران اس نگرانی کو ’’ناکہ بندی‘‘ کہتا ہے جبکہ امریکہ بھی یہی لفظ ایرانی جہازوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی ایران کو معاشی طور پر دنیا سے الگ تھلگ کردینے کی دھمکی
ذہن نشین رہے کہ امریکہ اور ایران اپریل میں پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے اور۱۷؍ جون کو حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا معاہدہ کیا تھا، لیکن سلامتی کی ضمانتوں اور آبنائے میں بحری جہاز رانی کی آزادی جیسے اختلافات پر یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ اس کے بعد۸؍ سے۲۴؍ جولائی تک دونوں فریقوں نے فوجی حملوں کا تبادلہ کیا ۔امریکہ نے ایران کے اندر مختلف تنصیبات پر حملے کیے، جبکہ ایران نے اردن، بحرین اور کویت سمیت متعدد عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔جون کے عبوری معاہدے کے ختم ہونے کے بعد ابھی تک مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سنیچر کو طلبہ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، البتہ قطر اور پاکستان جیسے ثالث ممالک ایران سے رابطے اور پیغام رسانی کر رہے ہیں، لیکن اسے مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتی ہے اور دنیا کی۲۰؍ فیصد توانائی کی ترسیل کا اہم ترین ذریعہ ہے۔