امریکہ نے ایران کو معاشی طور پر دنیا سے’’ ناقابل تصور الگ تھلگ‘‘ کردینے کی دھمکی دی ہے،ساتھ ہی کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کسی بھی چیز کو ایران کے اندر یا باہر جانے نہیں دے گی۔
EPAPER
Updated: August 14, 2026, 7:22 PM IST | Washington
امریکہ نے ایران کو معاشی طور پر دنیا سے’’ ناقابل تصور الگ تھلگ‘‘ کردینے کی دھمکی دی ہے،ساتھ ہی کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کسی بھی چیز کو ایران کے اندر یا باہر جانے نہیں دے گی۔
امریکی خزانہ سکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو ایسی معاشی تنہائی میں ڈالنے کی دھمکی دی ہے ’’جیسی دنیا نے کبھی نہیں دیکھی ،‘‘ اور کہا کہ اگلے ہفتے نئے اقدامات متوقع ہیں۔ بیسنٹ نے جمعرات کو نیوز میکس ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو بتایایہ معاشی تنہائی کا ایک ایسا مجموعہ ہوگا، جیسا دنیا نے کبھی نہیں دیکھا،ہوگا، اور مزید کہا کہ ’’آبنائے ہرمز میں جاری ناکہ بندی... ایرانی بندرگاہوں سے کسی بھی چیز کو اندر یا باہر جانے نہیں دے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے امریکی دعوے کو ’بے بنیاد جھوٹ‘ قرار دیا
بعد ازاں بیسنٹ نے دوہری حکمت عملی بیان کی جس میں مالی دباؤ اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی شامل ہے۔جبکہ نائب صدر جے ڈی وانس نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی اولین ترجیح امریکیوں کے لیے تیل اور پٹرول کی قیمتیں کم کرنا ہے، جبکہ تہران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اب دوسری ترجیح ہے۔واضح رہے کہ یہ سخت موقف بیسنٹ کے ۶؍گست کے بیان کے برعکس ہے، جب انہوں نے سی این بی سی کو بتایا تھا کہ تہران کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے چند دنوں میں معاہدہ ہو سکتا ہے۔ان تبصروں سے وال اسٹریٹ میںاچھال اور تیل کی قیمتوں کو گرایا تھا۔جولائی میں، محکمہ خزانہ نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہازوں پر ایران کے نئے حملوں کے بعد ایران کی شپنگ اور معاشی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے والی پابندیوں میں توسیع کی تھی۔
ذہن نشین رہے کہ امریکہ نے۲۸؍ فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا، جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور بیشتر اعلیٰ کمانڈروں کے ساتھ سینکڑوں شہری بھی شہید ہوگئے۔لیکن ایران نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز یہ تنگ آبی گزرگاہ جس سے عالمی تیل کا پانچواں حصہ گزرتا تھاپر کنٹرول قائم کر لیا۔اور اس ساتھ ہی امریکہ کے اتحادی خلیجی عرب ممالک پر میزائل اور ڈرون برسائے، جہاں قائم امریکی فوجی اڈے تباہ ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق، امریکی فوج نے جنگ شروعاتی دور میں ہی مہنگے اور جدید میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کے بڑے ذخائر کو ایران کے خلاف استعمال کر لیا ہے اور اب مبینہ طور پر اس کے ہتھیاروں کے ذخائر میں قابل ذکر کمی واقع ہوگئی ہے، جس سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران پر دوبارہ حملے کے اختیارات محدود ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: روس سے جنگ ختم کرنے کیلئے یوکرین نے امریکہ کو تجاویز پیش کیں
مزید برآں وانس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکی تیل اور گیس کی قیمت برداشت کر سکیں۔ تاہم ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملہ کرنے سے صرف اس صورت میں باز رہیں گے جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جلد معاہدہ ہو جائے۔ دریں اثناءایران نے اس گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط کی ایک فہرست مقرر کر دی ہے جنہیں ٹرمپ انتظامیہ کے قبول کرنے کا امکان نہیں، ان شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی رہائی اور جنگی نقصانات کا معاوضہ۔یہ شرائط نام نہاد مفاہمت کی یادداشت کی شرائط کی عکاسی کرتی ہیں جو جون میں طے پائی تھی جس کے بعد لڑائی ختم ہو گئی تھی۔ ساتھ ہی اس میں ایران کے لیے۳۰۰؍ ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ کی شق بھی شامل کی گئی۔