• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کو امریکہ چلانے کا حق ہے، دوسرے ممالک پر حکمرانی کا نہیں: برازیلی صدر لولا

Updated: September 22, 2026, 3:31 PM IST | İstanbul

برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں امریکہ پر حکمرانی کا حق ہے، دوسرے ممالک پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا نہیں۔ لولا نے عالمی تنازعات کے حل کیلئے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ برازیل امریکہ کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے، تاہم بیرونی دباؤ قبول نہیں کرے گا۔

Luiz Inacio Lula da Silva. Photo: INN.
لولا ڈا سلوا۔ تصویر: آئی این این

برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا نے پیرکو کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو امریکہ پر حکمرانی کا حق حاصل ہے، لیکن انہیں دوسرے ممالک پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو دیگر ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہئے۔ سی این این کی اینکر کرسٹیئن امان پور کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں لولا ڈا سلوا نے کہا، ’’صدر ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ انہیں حکومت کرنے کا حق ہے، لیکن دوسرے ممالک پر حکومت کرنے کا حق نہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کو اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کا حق نہیں۔ ’’میں چاہتا ہوں کہ میرا احترام کیا جائے اور میں دوسروں کا احترام کرتا ہوں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ: بچوں کے قتل پر اسرائیلی ماڈل کے بیان پر فرانسسکا البانیز کا ردعمل

لولا نے عالمی معاملات میں ٹرمپ کے یک طرفہ طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تنازعات سے نمٹنے کے لیے ممالک کو کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا چاہئے۔ سی این این برازیل کے مطابق انہوں نے کہا، ’’دنیا میں ہم آہنگی برقرار رکھنے کا بہترین طریقہ کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ ‘‘برازیلی صدر نے کہا کہ ٹرمپ کا طرزِ عمل اس تصور پر مبنی ہے کہ طاقتور ترین ملک دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کر سکتا ہے، تاہم وہ اس سوچ سے اتفاق نہیں کرتے۔ لولا نے کہا، ’’ان کا طرزِ حکمرانی یہ ہے کہ ’میں سب سے طاقتور ہوں، میں سب سے زیادہ دولت مند ہوں، میں سب کچھ کر سکتا ہوں اور دوسروں کو میری بات ماننا ہوگی۔ ‘ یہ طاقتور کی حکمرانی ہے، جس سے میں اتفاق نہیں کرتا۔ ‘‘ برازیل اور امریکہ کے درمیان تجارت اور برازیل کے معاملات پر امریکی دباؤ کے باعث کشیدگی بڑھنے کے دوران لولا ڈا سلوا متعدد مرتبہ ٹرمپ کی عالمی امور سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اٹلی: اسکولوں میں برقع پر پابندی کی تجویز، غیر ملکی طلبہ کی تعداد بھی محدود ہوگی

لولا نے امریکہ سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ برازیل کے۲۰۲۶ء کے صدارتی انتخابات میں مداخلت نہ کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ برازیل کے سیاسی معاملات کا فیصلہ برازیلی عوام کو خود کرنا چاہئے۔ برازیلی صدر اتوار کو نیویارک پہنچے، جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے۸۱؍ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وہ منگل کو اجلاس کے روایتی افتتاحی خطاب میں بھی شرکت کریں گے۔ یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برازیل اور امریکہ کے درمیان تجارتی اقدامات اور واشنگٹن کی جانب سے برازیل کے داخلی معاملات پر تنقید کے باعث اختلافات برقرار ہیں۔ لولا ڈا سلوا نے کہا کہ برازیل امریکہ کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم وہ کسی بھی بیرونی دباؤ یا مسلط کردہ فیصلے کو قبول نہیں کرے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK