Inquilab Logo Happiest Places to Work

حوثیوں کے خلاف ، برطانیہ سعودی کے ساتھ

Updated: July 24, 2026, 11:29 AM IST | London

برطانوی وزارت خارجہ نے حوثیوں کے حملے کی صورت میں مددکا وعدہ کیا ۔

British Foreign Secretary Miliband. Photo: INN
برطانوی وزیر خارجہ ملی بینڈ۔ تصویر: آئی این این

برطانیہ نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو دی جانے والی حالیہ دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ’’یہ اشتعال انگیز اقدامات علاقائی عدم استحکام میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، بحیرہ احمر میں آزاد جہاز رانی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور یمن میں امن  کیلئے جاری کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا’’ ہم ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب اور خطے کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں، اور حوثیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی کشیدگی بڑھانے والی کارروائیاں فوری طور پر روک دیں۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان کو فلسطین کی حمایت میں اضافے کی امید: وزیر خارجہ

ایندھن کی فراہمی

سعودی وزارت خارجہ نے پیر کے روز حوثی ملیشیا کے نام نہاد فوجی ترجمان کی جانب سے سعودی عرب پر یمنی عوام کا محاصرہ کرنے اور سمندری جہاز رانی پر پابندی عائد کرنے کے الزامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ سعودی عرب اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس نے گزشتہ برسوں کے دوران یمن کی قانونی حکومت کے ساتھ مل کر برادر یمنی عوام کی مشکلات کم کرنے کیلئے کام کیا ہے، جس میں ترقیاتی منصوبوں کا تسلسل، یمنی حکومت کے بجٹ کی معاونت اور بجلی گھروں کو چلانے کیلئے ایندھن کی فراہمی شامل ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’’شمالی یمن کی بندرگاہوں (الحدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ) نے ۲۰۲۶ء کے پہلے نصف میں ۳۰۰؍ سے زائد بحری جہازوں کا استقبال کیا، جن میں مختلف غذائی اشیا، سامان، ایندھن اور تعمیراتی مواد شامل تھا۔وزارت نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۲۱۶؍ کے تحت کام جاری ہے، جس کا مقصد ہتھیاروں اور گولہ بارود کی آمد کو روکنا ہے، جنہیں حوثی ملیشیا مختلف طریقوں سے یمن میں داخل کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ یمنی عوام کے وسائل پر اپنے قبضے کو طول دے سکے۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب نے ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا متعارف کرایا

حوثیوں کے وسیع حملے

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں حوثی ملیشیا کی جانب سے ماضی میں کئے گئے وسیع حملوں کا بھی ذکر کیا، جن میں یمنی عوام اور یمن کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔بیان کے مطابق ان حملوں میں ۳۰؍ دسمبر ۲۰۲۰ء کو عدن ایئرپورٹ پر حملہ بھی شامل ہے،  جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔اسی طرح جنگ بندی کے دوران ۲۱؍ اکتوبر ۲۰۲۲ء کو جنوبی یمن میں تیل برآمد کرنے والی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد حکومت کی تیل فروخت کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کیلئے مزید حملے کئے گئے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ یمن کی حکومت کی آمدنی کا تقریباً ۶۰؍ فیصد حصہ تیل سے حاصل ہوتا ہے اور ان حملوں کا براہ راست اثر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی پر پڑا۔

یاد رہے کہ یمن میں ۲۰۱۴ء کے بعد سے مسلسل خانہ جنگی جاری تھی تقریباً ۱۰؍ سال بعد حوثی یمنی حکومت کا تختہ پلٹنے میں کامیاب رہے اور اقتدار حاصل کیا۔ سعودی عرب نے جنگ میں یمن حکومت کا ساتھ دیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK