• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ کے باعث برطانوی گھرانوں کو ۲۴۰۰؍پاؤنڈ کا مالی نقصان

Updated: September 01, 2026, 5:02 PM IST | London

ایران کے ساتھ جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے برطانیہ کے عام گھرانوں پر بڑا مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔ ۲۰۲۷ء کے اختتام تک ایک اوسط برطانوی گھرانہ تقریباً ۲۴۰۰؍ پاؤنڈ کی حقیقی آمدنی یا قوتِ خرید سے محروم ہو سکتا ہے۔

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این

 ایران کے ساتھ جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے برطانیہ کے عام گھرانوں پر بڑا مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔سینٹر فار اکنامکس اینڈ بزنس ریسرچ (سی ای بی آر) کے تازہ تجزیے کے مطابق ۲۰۲۷ء کے اختتام تک ایک اوسط برطانوی گھرانہ تقریباً ۲۴۰۰؍ پاؤنڈ  کی حقیقی آمدنی یا قوتِ خرید سے محروم ہو سکتا ہے۔ سی ای بی آر  کے مطابق جنگ کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اجرتوں میں سست رفتار اضافے سے اوسط گھرانے کی حقیقی آمدنی۲۰۲۶ءمیں تقریباً۱۱۰۰؍ کم رہے گی۔ ۲۰۲۷ء میں مزید ۱۳۰۰؍ کا نقصان متوقع ہے، جس سے مجموعی اثر ۲۴۰۰؍ فی گھرانہ  تک پہنچ جائے گا۔  یہ رقم کسی گھرانے پر براہِ راست عائد ہونے والا ٹیکس یا بل نہیں ہے، بلکہ اس بات کا تخمینہ ہے کہ جنگ نہ ہونے کی صورت میں متوقع آمدنی اور قوتِ خرید کے مقابلے میں گھرانے کتنے کم وسائل کے ساتھ رہ جائیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے:جارج مائیکل کو ۲۰۲۶ء میں ’’ عظیم میوزک آئیکون‘‘ قرار دے دیا گیا

 سی ای بی آر  کا اندازہ ہے کہ برطانیہ کے تمام گھرانوں کی حقیقی قابلِ خرچ آمدنی میں مجموعی طور پر تقریباً  ۴ء۷۰؍  ارب پاؤنڈ کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کا دوبارہ بڑھنا اور اجرتوں کی کمزور رفتار ہے۔  تجزیے کے مطابق ایران جنگ کا سب سے بڑا اقتصادی اثر  آبنائے ہرمز  کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹ سے پیدا ہوا ہے۔ اس اہم بحری راستے میں خلل نے عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں برطانیہ میں توانائی کی قیمتیں بڑھیں اور مہنگائی کا دباؤ دوبارہ شدت اختیار کر گیا۔  

یہ بھی پڑھئے:لبوشین آسٹریلیا کی ون ڈے ٹیم سے باہر

اس کا اثر صرف گیس اور بجلی کے بلوں تک محدود نہیں رہتا۔ مہنگی توانائی سے پیٹرول ، ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر روزمرہ اشیا  کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں، جس سے لوگوں کی حقیقی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے۔  برطانیہ کے توانائی ریگولیٹر اوفجیم  نے اکتوبر۲۰۲۶ء سے گھریلو توانائی کی قیمتوں کی حد میں ۴؍ فیصد اضافہ  کیا ہے، جس کے بعد ایک عام گھرانے کا سالانہ بل تقریباً  ۱۷۲۳؍ تک پہنچ جائے گا۔ یہ اضافہ تقریباً ۶۰؍ پاؤنڈ  سالانہ  ہوتاہے ۔رپورٹس کے مطابق اگر توانائی کی عالمی قیمتیں بلند رہیں تو ۲۰۲۷ء کے آغاز میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ سی ای بی آر  کے مطابق جنگ کا ایک بالواسطہ اثر بھی ہے۔ بلند مہنگائی مرکزی بینک کے لیے شرحِ سود میں کمی کی گنجائش محدود کرتی ہے، جبکہ بلند قرض لینے کی لاگت کاروباری سرمایہ کاری اور روزگار کو متاثر کر سکتی ہے۔ نتیجتاً اجرتوں میں اضافے کی رفتار کم رہنے کا امکان ہے، جس سے گھرانوں کی مالی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK