• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتن یاہو کی نیا ّ ڈول رہی ہے؟

Updated: September 01, 2026, 4:49 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

اسرائیلی پارلیمانی انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں، نیتن یاہو کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ عوام میں اُن کی حکومت کے تئیں بے چینی، جو پہلے بھی تھی، کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔ حالیہ دنوں میں تل ابیب اور یروشلم میں مظاہروں میں ایک بڑا پنجرہ استعمال کیا گیا جس میںخود کو ’’قید‘‘ کرنے والے شخص نے نیتن یاہو جیسا لباس پہن رکھا تھا۔

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu. Picture: INN
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی پارلیمانی انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں، نیتن یاہو کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ عوام میں اُن کی حکومت کے تئیں بے چینی، جو پہلے بھی تھی، کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔ حالیہ دنوں میں تل ابیب اور یروشلم میں مظاہروں میں ایک بڑا پنجرہ استعمال کیا گیا جس میںخود کو ’’قید‘‘ کرنے والے شخص نے نیتن یاہو جیسا لباس پہن رکھا تھا۔ اسے دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا تھا کہ اشارہ کس کی طرف ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ یاہو‘ اپنے اقدامات کی وضاحت کریں تاکہ اُن کی جوابدہی طے ہو۔ عوام اُن سے دیگر باتوں کے علاوہ، تحفظ میں ناکامی کے سبب ناراض ہیں بالخصوص ۷؍ اکتوبر۲۳ء کے حماس کے حملے کی بابت، جس کے جواب میں نیتن یاہو نے غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی مگر اپنے عوام کو حملہ کیوں ہوا یا کیسے ہوگیا کا جواب نہیں دیا۔ آئندہ ماہ اس واقعے کو تین سال مکمل ہوجائینگے مگر نیتن یاہو کی حکومت اس معاملے میں ہنوز خاموش ہے۔ اسرائیلی عوام میں بڑی تعداد اُن لوگوں کی بھی ہے جو غزہ کے خلاف چھیڑی گئی ہلاکت خیز اور تباہ کن جنگ کو غلط مانتے ہیں اور اسے، اقتدار پرقابض رہنے کی نیتن یاہو کی بیزار کن پالیسی قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: شکر مہنگی، اتھنال کے باوجود پیٹرول مہنگا

عوام کو  اس بات کا بھی گلہ ہے کہ وزیر اعظم نے ایران پر جنگ مسلط کی جو اچانک کوئی بڑا خطرہ نہیں بن گیا تھا۔ اس نے اسرائیل پر حملہ بھی نہیں کیا تھا۔ یہ اور ایسے کئی اسباب کے پیش نظر نیتن یاہو عوامی غم و غصہ کی زد پر ہیں۔ ۱۱؍ اگست کے ایک سروے میں نیتن یاہو کی لکڈ پارٹی کے کم و بیش ۵۵؍ فیصد اراکین کا کہنا تھا کہ وہ ایک اعتدال پسند حکومت چاہتے ہیں، نیتن یاہو جیسی موجودہ حکومت نہیں جس میں شدت پسندوں کا غلبہ ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یاہو‘ کی الیکشن جیتنے کی صلاحیت ویسی نہیں ہے جیسی پہلے تھی۔ اس بار کے الیکشن میں اُن کی پارٹی ایک تہائی سیٹوں سے محروم ہوسکتی ہے۔ اس بار ایسے افراد منتخب کئے جا سکتے ہیں جو اسرائیلی جارحیت کی حمایت نہیں کرتے، اعتدال پسند ہیں اور غزہ کی آبادی ختم کرنے (Depopulating Gaza) کے مخالف ہیں۔ مگر کیا ایسے لوگوں کو خاطرخواہ عوامی حمایت حاصل ہوگی؟ اُن کی لڑائی  اقتدار ہی کو سب کچھ سمجھنے والے نیتن یاہو سے ہے جو اقتدار کے لئے کچھ بھی کر سکتے  ہیں، اور اگر امریکہ پشت پناہی کررہا ہو تو اُن کا اقتدار سے ہٹنا مشکوک ہی رہے گا۔ اِدھر کئی بار ایسی خبریں مشتہر ہوئیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ڈانٹ پلائی، سخت سست کہا حتیٰ کہ مغلظات کا سہارا لیا مگردُنیا نے دیکھا کہ ۲۸؍ جولائی ۲۶ء کو وہائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو کا شاندار خیرمقدم بھی ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کھیلو انڈیا‘‘ سے پہلے کھیلو اسکول، کھیلو کالج

کون نہیں جانتا کہ اسرائیل اور امریکہ ایک جان دو قالب ہیں۔ واشنگٹن کی تل ابیب کے بغیر دال نہیں گلتی اور تل ابیب کو واشنگٹن کے بغیر نیند نہیں آتی۔ اس لئے الیکشن جیتنے میں نیتن یاہو کو ٹرمپ کی مدد تو ملتی رہے گی تاہم اسرائیلی عوام اگر نیتن یاہو کو ہٹانے کا طے کرلیں تو ٹرمپ کی مددسے بھی کچھ نہیں ہوگا۔ یروشلم اور تل ابیب کے مظاہرے کچھ کہتے ہیں مگر اس سے زیادہ اہمیت ایران جنگ کے دوران بار بار بنکروں میں چھپنے کیلئے مجبور عوام کی ہے جو دوٹوک فیصلہ کرلیں تو نیتن یاہو کی جگہ جیل میں ہوگی جن پر نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK