عینی شاہدین اور تصدیق شدہ ویڈیو کے مطابق ملبے تلے بچوں کی مدد کیلئے چیخنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 1:50 PM IST | Agency | Gaza
عینی شاہدین اور تصدیق شدہ ویڈیو کے مطابق ملبے تلے بچوں کی مدد کیلئے چیخنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
مغربی غزہ سٹی میں رات کے وقت ایک کثیر منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہونے سے خواتین اور بچوں سمیت کم از کم ۲۰؍فلسطینی جاں بحق ہوگئے جبکہ ۶؍ خاندانوں کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاع ہے۔ مقامی عینی شاہدین اور صحافیوں کے مطابق ملبے میں متعدد افراد کے پھنسے ہونے کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
غزہ کی شہری دفاع کی ٹیم نے بدھ کو بتایا کہ واقعے میں کم از کم۲۰؍ افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں۵؍ بچے شامل ہیں۔ الجزیرہ کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو میں امدادی کارکنوں کو ملبے سے کم عمر بچوں کو نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ مقامی افراد بھی ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے میں امدادی ٹیموں کی مدد کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:چین کے وزیر دفاع کا جبر کے خلاف انتباہ
عینی شاہدین اور تصدیق شدہ ویڈیو کے مطابق ملبے تلے بچوں کی مدد کے لئے چیخنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جبکہ شہری دفاع کے اہلکار ملبے میں پھنسے افراد تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔ ایک اور ویڈیو میں ایک کم عمر بچی کو ملبے سے زندہ نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ متعدد دیگر افراد ملبے سے نکلنے کے بعد سانس لینے میں دشواری کا شکار دکھائی دیئے جن میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔ انہیں ایمبولینسوں کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس عمارت کو اس سے قبل اسرائیلی بمباری میں نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس میں دراڑیں پڑ گئی تھیں اور عمارت کا ڈھانچہ کمزور ہوگیا تھاجس کے بعد وہ منہدم ہوگئی۔جنگ کے دوران غزہ بھر میں ہزاروں مکانات اور اپارٹمنٹ عمارتیں تباہ یا جزوی طور پر منہدم ہو چکی ہیںجو اب رہائش کے قابل نہیں اور اچانک منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔اسرائیل کی جانب سے تعمیراتی سامان کی غزہ میں آمد پر پابندیاں عائد کئےجانے کے باعث بہت سے فلسطینی عارضی پناہ گاہوں اور جنگ کے دوران بمباری سے متاثر نیم تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ امدادی کارروائیوں کیلئے شہری دفاع کی ٹیموں کو درکار بھاری مشینری کی کمی نے بھی ملبہ ہٹانے اور عوام کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے کام کو مشکل بنا دیا ہے۔
اس کمی کے باعث ایسے حادثات میں امدادی کارکن بڑی حد تک دستی مشقت پر انحصار کر رہے ہیں جس سے ہنگامی حالات میں پھنسے ہوئے افراد تک پہنچنے اور انہیں بچانے میں مزید وقت لگ رہا ہے۔