اے پی سی آر کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ، مقامی انتظامیہ کی نیت پر سوال قائم، الزام ہے کہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایاگیا۔
EPAPER
Updated: June 25, 2026, 10:51 AM IST | Farzan Qureshi | New Delhi
اے پی سی آر کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ، مقامی انتظامیہ کی نیت پر سوال قائم، الزام ہے کہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایاگیا۔
راجستھا ن میں عبادت گاہوں پر بلڈوزر کی کارروائی پراسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی ہے اور مقامی انتظامیہ پر جانبداری کے الزامات عائد کئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ۱۶ ؍اور ۱۷؍کی درمیانی رات راجستھان کے باڑمیر کی مقامی انتظامیہ نے تحصیلدار کے ذریعہ متعدد مساجد، مدارس اور مذہبی مقامات کو نوٹس جاری کیے تھے۔ نوٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان مذہبی اداروں کوچارہ کی زمین، سرکاری زمین یا پر تجاوزات کرکے تعمیر کیا گیا ہے۔نوٹسز میں متعلقہ انتظامی کمیٹیوں اور مقامی رہائشیوں کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔مختلف نوٹسز میں جواب کے لیے صرف ایک، دو یا تین دن فراہم کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال: بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد محرم الحرام کے جلوس کیلئے سخت ہدایات
اس کے علاوہ ۱۹ اور ۲۰؍ جون کو اے پی سی آر راجستھان کے ایک وفد نے اور دیگر وکلاء اور کارکنانے جودھ پور، باڑمیر اور جیسلمیر کا دورہ کیا اور متاثرہ افراد، وکلاء، عوام سے ملاقات کی۔وفد میں جنرل سیکرٹری مزمل اسلام رضوی، اسٹیٹ ایگزیکٹو ممبر ڈاکٹر اقبال صدیقی،موصوف احمد، آصف قریشی، ماسٹر ذاکر حسین اور ایڈووکیٹ اروندشامل تھے۔ لوگوںنے بتایا کہ متعلقہ افسران ان سے ملاقات نہیں کی۔سماعت کے لیے پیش ہونے کے باوجود تحریری جوابات بھی قبول نہیں کیے گئے۔۲۰؍ جون۲۰۲۶ء کو وفد باڑمیر پہنچا اور مقامی لوگوں سے ملاقات کی ، مقامی اسٹیک ہولڈرز کے مطابق۵۰؍ سے زائد مساجد، مدارس، عیدگاہیں اور مزارات کو نوٹس جاری کئے گئے ہیںجبکہ ۱۸؍جون اور ۲۱؍جون کے درمیان کم از کم۶؍ مساجد کو مبینہ طور پر مسمار کر دیا گیا اور جواب کی آخری تاریخ کے درمیان بہت کم وقت کا فرق موجود تھا۔متاثرہ فریقوں کا الزام ہے کہ ان کی بات نہیں سنی گئی۔مقامی انتظامیہ کے حکام کے مطابق یہ کارروائی انسداد تجاوزات اور سرحدی حفاظتی طریقوں کی مہم کا حصہ ہے۔ یہ ہندوستان پاکستان کے۵۰؍ کلومیٹر کے اندر تعمیرات پر لاگو ہوتا ہے۔ وہ یہ بھی دعوی کر رہے ہیں کہ ڈھانچے میں درست زمینی ریکارڈ یا منظوریوں کی کمی تھی، اور یہکارروائی صرف مذہبی ڈھانچے تک محدود نہیں ہے۔ تاہم بعض مساجد درحقیقت کئی دہائیوں پرانی تھی اور یہاں تک کہ سرحد وجود سے بھی پہلے تھیں۔ان مساجد کو منہدم کیا گیا ،ان میں جام گڑھ مسجد،باڑمیر ملانہ مسجد، باڑمیر کیرکوری مسجد، سیاہی مسجد، باڑ میر کیلان کا پار مسجد،باڑمیر دیو پورہ مسجد، سدواشامل ہے۔ مزید ڈھانچوں کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے یہ صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ جب کہ اسی زون میں دیگر کمیونٹی کے ڈھانچے موجود ہیں لیکن مساجد، مدارس، عیدگاہوں اور مزاروں کے خلاف ہی کارروائی کی جارہی ہے۔