Updated: September 04, 2026, 4:10 PM IST
| Mumbai
ہندوستان کے بڑے شہروں میں اپنے سر پر چھت کا خواب مسلسل مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران زمین اور تعمیراتی اخراجات میں نمایاں اضافے کے باعث مکانات اور فلیٹس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ نئی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۱ءسے ۲۰۲۵ء کے درمیان ہندوستان کے بڑے شہروں میں گھروں کی قیمتیں تقریباً ۳۴؍ فیصد بڑھ گئی ہیں۔
مکان کی قیمت۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان کے بڑے شہروں میں اپنے سر پر چھت کا خواب مسلسل مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران زمین اور تعمیراتی اخراجات میں نمایاں اضافے کے باعث مکانات اور فلیٹس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ نئی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۱ءسے ۲۰۲۵ء کے درمیان ہندوستان کے بڑے شہروں میں گھروں کی قیمتیں تقریباً ۳۴؍ فیصد بڑھ گئی ہیں ، جس کے نتیجے میں خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے اپنا گھر خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
پراپرٹی کنسلٹنسی ایناراک کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی سات بڑی ہاؤسنگ مارکیٹس دہلی این سی آر، بنگلورو، ممبئی، کولکاتا، پونے، چنئی اور حیدرآباد میں ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی تک زمین کی قیمتوں میں تقریباً ۵۰؍ سے۱۲۰؍ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔بنگلورو میں زمین کی قیمتیں تقریباً ۶۰؍ سے ۱۲۰؍ فیصد جبکہ نیشنل کیپٹل ریجن (این سی آر)(NCR) میں ۷۰؍سے۱۳۰؍ فیصد تک بڑھنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انفراسٹرکچر کی ترقی، میٹرو، ایکسپریس ویز، نئی سڑکوں، کاروباری مراکز اور رہائشی طلب میں اضافے نے زمین کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بلجیم کے وزیراعظم کا نریندر مودی کیلئے انوکھا تحفہ سفر میں ہی پگھل گیا
رپورٹ کے مطابق ان سات بڑے شہروں میں رہائشی جائیداد کی اوسط قیمت ۲۰۲۱ء میں۵۸۲۶؍ روپے فی مربع فٹ تھی، جو ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی تک بڑھ کر ۹۲۶۰؍روپے فی مربع فٹ ہو گئی۔ یعنی مجموعی طور پر تقریباً ۵۹؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کا براہ راست اثر ان لوگوں پر پڑ رہا ہے جو پہلی مرتبہ گھر خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خاص طور پر متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے گھر کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی ہوم لون کی ماہانہ قسط کو ان کی استطاعت سے باہر کر سکتا ہے۔
گھر کی قیمت میں اضافے کی وجہ صرف زمین نہیں ہے۔ کورونا وبا کے بعد تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ اسٹیل کی قیمتوں میں ایک مرحلے پر زبردست اضافہ ہوا، جبکہ ایندھن سے متعلق مصنوعات، درآمد شدہ فنشنگ میٹریل، ٹائلز اور شیشے جیسے سامان کی لاگت بھی بڑھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تعمیراتی اخراجات مجموعی پروجیکٹ لاگت کا تقریباً ۶۶؍ فیصد جبکہ زمین تقریباً ۳۴؍ فیصد حصہ بنتی ہے، اگرچہ یہ تناسب شہر اور مقام کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔
موجودہ جغرافیائی کشیدگی نے تعمیراتی صنعت کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ شپنگ میں خلل کے باعث بعض درآمد شدہ تعمیراتی سامان کو طویل بحری راستوں سے منتقل کرنا پڑ رہا ہے، جس سے فریٹ اور انشورنس اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر اسٹیل کی تیاری، سیمنٹ کی نقل و حمل اور تعمیراتی سائٹس تک مشینری اور سامان پہنچانے کی لاگت پر بھی پڑتا ہے۔ ایناراک کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث اسٹیل، ایندھن سے متعلق لاجسٹکس، درآمدی فنشنگ میٹریل اور مکینیکل، الیکٹریکل و پلمبنگ (MEP) اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مجموعی تعمیراتی لاگت پر مزید ۸؍ سے۱۰؍ فیصد دباؤ پڑنے کا اندازہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:میری ناکامیوں نے والدین کو بے بس کر دیا تھا: میگھنا گلزار
مکان مہنگے ہونے کے باوجود رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز کے لیے صورتحال آسان نہیں ہے۔ نئے پروجیکٹس میں بڑھتی ہوئی زمین اور تعمیراتی لاگت کو قیمت میں شامل کیا جا سکتا ہے، لیکن جو پروجیکٹس پہلے ہی لانچ ہو چکے اور فروخت کیے جا چکے ہیں، ان میں ڈویلپرز کے لیے قیمت بڑھانے کی گنجائش محدود ہوتی ہے۔ ایسے منصوبوں میں لاگت بڑھنے کا مطلب اکثر ڈیولپر کے منافع میں کمی ہوتا ہے، کیونکہ خریدار سے پہلے سے طے شدہ قیمت سے کہیں زیادہ رقم طلب کرنا آسان نہیں۔ نئے پروجیکٹس میں قیمت بڑھانے سے دوسرا مسئلہ پیدا ہوتا ہے: خریدار گھر خریدنے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ یوں ڈیولپر کے لیے قیمت، طلب اور منافع کے درمیان توازن قائم رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔