Updated: September 04, 2026, 2:08 PM IST
| New Delhi
بلجیم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کیلئے بلجیم کی بہترین چاکلیٹ سے تیار کردہ انڈیا گیٹ کا منفرد مجسمہ تحفے میں لانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن چاکلیٹ سے بنا یہ خاص تحفہ ہندوستان پہنچنے سے پہلے ہی سفر کی تاب نہ لاسکا۔ ڈی ویور نے بتایا کہ مجسمے کا ایک متبادل بلجیم میں موجود ہے اور اسے کسی نہ کسی طرح وزیراعظم مودی تک پہنچایا جائے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی بلجیم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور کے ساتھ۔ تصویر: ایکس
بلجیم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور ہندوستان پہنچے تو ان کے ذہن میں ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کیلئے ایک منفرد سفارتی تحفہ تھا، تاہم دہلی کے مشہور انڈیا گیٹ کا بلجیم چاکلیٹ سے تیار کردہ مجسمہ سفر کے دوران ہی خراب ہوگیا۔ جمعرات کو مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بارٹ ڈی ویور نے بتایا کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی کو بلجیم کی بہترین چاکلیٹ سے مکمل طور پر تیار کردہ انڈیا گیٹ کا مجسمہ تحفے میں دینا چاہتے تھے، لیکن یہ مجسمہ ہندوستان تک پہنچنے سے پہلے ہی سفر کی تاب نہ لا سکا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’میں نے دراصل وزیراعظم مودی کیلئے ایک موزوں تحفہ لانے کا منصوبہ بنایا تھا، بہترین بلجیم چاکلیٹ سے مکمل طور پر تیار کردہ انڈیا گیٹ کا مجسمہ۔ لیکن حقیقی انڈیا گیٹ تقریباً ایک صدی سے قائم ہے، جبکہ چاکلیٹ سے بنا اس کا نمونہ ہندوستان کا سفر بھی برداشت نہیں کرسکا۔‘‘ ڈی ویور نے مزید کہا کہ چاکلیٹ سفارت کاری کیلئے تو بہترین ہے، لیکن سفارتی سفر کیلئے شاید اتنی موزوں نہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ بلجیم میں اس مجسمے کا ایک متبادل موجود ہے اور وہ اسے کسی نہ کسی طرح صحیح سلامت وزیراعظم مودی تک پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کروڑوں صارفین کی موبائل اسکرین پر اچانک میسیج آیا؛ SRK is on Vi، صارفین حیران
انڈیا گیٹ کا انتخاب کیوں کیا گیا؟
بلجیم کے وزیراعظم کے مطابق انڈیا گیٹ کا انتخاب محض اتفاق نہیں تھا۔ یہ یادگار ہندوستان اور بلجیم کے درمیان مشترکہ تاریخ کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے مستقبل کے تعلقات کی علامت بھی ہے۔ چاکلیٹ سے تیار کردہ انڈیا گیٹ کے مجسمے پر ان ہندوستانی فوجیوں کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا گیا تھا جو پہلی عالمی جنگ کے دوران بلجیم کے علاقے فلینڈرز فیلڈز میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ ڈی ویور نے کہا، ’’ایک صدی سے زیادہ عرصہ قبل ہندوستانی فوجی ہزاروں میل کا سفر کرکے بلجیم کی سرزمین پر لڑنے پہنچے تھے، اور ہم ان کی بہادری اور قربانی کو نہیں بھولے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ہندستان اور بلجیم کی مشترکہ تاریخ کی عکاسی کرتا ہے اور اس کے ساتھ ایک وسیع پیغام بھی جڑا ہے کہ امن کو کبھی بھی یقینی نہیں سمجھنا چاہئے۔ ان کے مطابق آج کی دنیا میں یہ سبق ایک بار پھر انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
دو دہائیوں میں ہندوستان میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں
بارٹ ڈی ویور ۲؍ سے ۴؍ ستمبر ۲۰۲۶ء تک ہندوستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ یہ گزشتہ دو دہائیوں میں کسی بلجیم وزیراعظم کا ہندووستان کا پہلا دورہ ہے۔ دورے کے دوران انہوں نے نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات بھی کی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی میں ۲۵؍ ہزار سے زائد آوارہ مویشی، ۵؍ بڑی گئوشالاؤں کی فوری ضرورت
مشترکہ پریس کانفرنس میں بلجیم کے وزیراعظم نے گزشتہ ۲۰؍ برسوں کے دوران ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں کی بھی تعریف کی، خصوصاً وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت کے دور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ ڈی ویور نے وزیراعظم مودی کا گرمجوش استقبال، مہمان نوازی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی کھلی اور واضح دوطرفہ بات چیت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت اینٹورپ کے شہری ہندوستان کا دورہ کرنا ان کیلئے ذاتی طور پر بھی خوشی کا باعث ہے، جبکہ بلجیم کے وزیراعظم کی حیثیت سے ۲۰؍ سال بعد ہندوستان آنا اس دورے کو مزید اہم بناتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’۲۰؍ برس ایک بہت طویل عرصہ ہے، بلکہ یہ بہت زیادہ طویل ہے۔ ان ۲۰؍ برسوں میں ہندوستان میں بہت بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، خاص طور پر وزیراعظم مودی کی قیادت کے دور میں۔‘‘