• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کابینہ نے آئی ڈی بی آئی میں سرکاری حصہ داری فروخت کرنے کومنظوری دی

Updated: October 15, 2026, 12:37 PM IST | Agency | New Delhi

ایئر انڈیا کے بعد مودی سرکار کا نجکاری کا دوسرا بڑا فیصلہ، بینک کے ۷۲ء۶۰؍ فیصد سرکاری شیئر۸ء۵۲؍ہزار کروڑ میں کنیڈا کی کمپنی کو فروخت کئے جائیں گے۔

IDBI Bank. Image: INN
آئی ڈی بی آئی بینک۔ تصویر: آئی این این
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ نے بدھ کو آئی ڈی بی آئی بینک کے ۷۲ء۶۰؍ فیصد سرکاری شیئرز کو فروخت کرنے کو منظوری دیدی  اور خریدار کے نام پر مہر لگا دی۔مرکزی حکومت اور لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) مشترکہ طور پر بینک میں اپنی ۷۲ء۶۰؍فیصد حصص داری کنیڈا کے ارب پتی پریم وتس کی کمپنی ’فیئر فیکس‘ کو فروخت کریں گے۔
یہ سودا۵۲؍ہزار ۸۷۷؍ کروڑ روپے میں طے پایا ہے۔۲۰۲۲ءمیں ٹاٹا گروپ کو ایئر انڈیا فروخت کرنے کے بعد یہ مرکزی حکومت کی جانب سے نجکاری کا سب سے بڑا سودا ہے۔
 
 
رقم کے لحاظ سے یہ ایئر انڈیا کے۱۸؍ہزار کروڑ روپے کے سودے سے بھی تقریباً تین گنا بڑا ہے۔ سودے کے تحت حکومت اپنے ۴۸ء۳۰؍ فیصد اور  ایل آئی سی  اپنے۲۴ء۳۰؍ فیصد حصص فروخت کرے گی۔ مجوزہ سودے کے بعد حکومت کے پاس بینک کے۱۵؍فیصد اور ایل آئی سی کے پاس۱۹؍ فیصد(دونوں کے پاس کل ملا کر ۳۴؍ فیصد)  شیئرباقی رہیں گے۔  مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ یہ سودا مکمل ہونے کے بعد ہندوستان کے مالیاتی شعبے میں سب سے بڑی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) ہوگا۔ آئی ڈی بی آئی کی فروخت کیلئے ۲؍مرحلوں پر  بولی کا عمل اپنایا گیا۔ ۲۰۲۲ء سے یہ عمل جاری تھا جو اب جاکر تکمیل کو پہنچا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK