ممبئی و مضافات کے ۵۰؍ سے زائد غیر قانونی اسکولوں اور ان کے ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر درج، بی ایم سی نے بغیر رجسٹریشن کے چلائے جا رہے ۱۶۴؍ اسکولوں کو بند کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔
کلاس روم۔ تصویر:آئی این این
شہر و مضافات میں بڑے پیمانے پر رجسٹریشن کے بغیر چلائے جا رہے اسکولوں کے خلاف کارروائی کی مہم مزید تیز کر دی گئی ہے ۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی شکایت پرباقاعدہ ۵۳؍ اسکولو ں اور ان کے ذمہ داران کے خلاف کیس درج کر دیا گیا ہے ۔ بی ایم سی نے شہر اور مضافات میں ایسے ۱۶۴؍ غیر قانونی اسکولوں کوبند کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے جس میںمذکورہ ۵۳؍اسکولیں بھی شامل ہیں ، تاہم، شہری انتظامیہ کے محکمہ تعلیم نے مذکورہ اسکولوں کے طلبہ کوسرکاری اسکولوں میں منتقل کرنے کا بھی یقین دلایا ہے ۔اسکولوں سے وابستہ ذمہ داران بی ایم سی کے اس فیصلہ کو غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں۔
ایک طرف بی ایم سی محکمہ تعلیم نے نوٹس جاری کرنے کے باوجود شہرو مضافات کے ایسے غیر قانونی اسکولوں کے بند نہ کئے پر کیس درج کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے تو دوسری طرف متاثرہ اسکولوں کے ذمہ داروں نے محکمہ تعلیم پر الزام لگایا ہےکہ ’’ برسوں سے اسکولوں کو ریگولرائز کرنے کی درخواستیں دی گئی ہیں لیکن محکمہ تعلیم نےاس جانب کوئی توجہ تک نہیں دی ۔‘‘
اس کارروائی سے متعلق بی ایم سی کے ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر ( پرائیویٹ سیکشن ) نثار خان کا کہنا تھا کہ ’’مذکورہ اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کو سرکاری اسکولوں میں داخلہ تو دے دیا جائے گا لیکن ان اسکولوں کا لیونگ سرٹیفکیٹ قبول نہیں کیاجائے گا کیونکہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔‘‘
بی ایم سی کی فراہم کردہ اطلاع کے مطابق جن اسکولوں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے ان میں ۳۹؍ اسکولیں مانخورد اور گوونڈی میں ہیں جبکہ ۱۴؍ اسکولیں مالونی میں واقع ہیں ۔ آفیسر کے بقول جن دیگر علاقوں میں غیر قانونی اسکولیں اب بھی جاری ہیں اور جنہیں نوٹس دیا گیا ہے ، ان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا ۔موصولہ اطلاع کے مطابق غیر قانونی طور پر چلا ئے جا رہے اسکولوں میں کم و بیش ۴۰؍ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ صرف گوونڈی کے غیر قانونی اسکولوں میں ۲؍ ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ جن اسکولوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ان میں گوونڈی کی نورانی مسجد کے قریب ڈاکٹر ذاکر حسین نگر کی ’مدر میری انگلش اسکول ،، گوتم نگر کی کے جی این انگلش پرائمری اسکول اورٹاٹا نگر کی ارقم انگلش اسکول بھی شامل ہے ۔ جن اسکولوں کو غیر قانونی قرار دیا گیاہے ان میں اردو ، انگریز ی اور ہندی میڈیم اسکولیں شامل ہیں ۔ دوسری جانب غیر قانونی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی منتقلی پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈپٹی میونسپل کمشنر (ایجوکیشن) پراچی جامبھیکر نے بتایا کہ ’’ شیواجی نگر ( گوونڈی )میں بی ایم سی اسکول کی نئی عمارت مکمل ہوچکی ہے اور اگلے ہفتہ اسے شروع کر دیا جائے گا ، اس میں گوونڈی اور اطراف کے غیر قانونی اسکولوں کے طلبہ کو بھی منتقل کیا جائے گا ۔بعد ازیں بی ایم سی کی اس کارروائی پر کچی یا گنجان آبادیوں میں اسکول چلانے والوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ’’ بی ایم سی کا یہ اقدام غیر منصفانہ ہے کیونکہ انہوں نے بار ہا حکومت سے رجوع کر کے اسکولوں کوریگولرائزکرنےکی درخواستیں کی تھی لیکن ریاستی محکمہ تعلیم اور حکومت دونوں نے ہی اس جانب کوئی توجہ نہیں دی ۔مذکورہ اسکولوں کے چند نمائندوں نے اس فیصلہ کے خلاف جلد ہی کورٹ سے رجوع ہونے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے ۔