Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی کو جھوپڑ پٹیوں سے پاک بنانے کی مہم کا اعلان

Updated: April 01, 2026, 12:12 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ نئی جھوپڑپٹیوں کو بننے سے روکنے کیلئے اب جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا۔

Eknath Shinde.Photo:INN
ایکناتھ شندے۔ تصویر:آئی این این
 نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ممبئی کو جھوپڑ پٹیوں  سے پاک بنانے کے مقصد سے ’ہندو ہردئے سمراٹ بالا صاحب ٹھاکرے شہری عوامی فلاحی مہم‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کے تحت جہاں  جھوپڑ پٹی  کے مکینوں کی تیزی سے باز آبادکاری کی جائے گی وہیں    اس بات کا بھی خیال رکھا جائے گا کہ ممبئی میں نئی جھوپڑپٹی نہ بنے اور اس کیلئے ’نیترم‘ ٹیکنالوجی کا استعمال کیاجائے گا۔ 
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے منگل کو کہا کہ ہندو ہردئے سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے کی پیدائش کے صد سال مکمل ہونے کے موقع پر اس اہم مہم کو شروع کرکے ہم نے ایک طرح سے بالاصاحب ٹھاکرے کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔انہوںنے امید ظاہر کی ہے کہ ریاستی حکومت کے اس فیصلے سے ممبئی میں جھوپڑپٹی کے مکینوںکی بازآبادکاری کے عمل کو کافی فروغ ملے گا جس سے شہریوں کو مزیدسہولتوں  سے لیس اور محفوظ مکانات حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اس مہم کے ذریعے بالا صاحب ٹھاکرے کے جھوپڑپٹیوں سے پاک ممبئی کے خواب کو پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
کلسٹر ری ڈیولپمنٹ کو تیز کرنا
اس مہم میں کم از کم۵۰؍ایکڑ اور۵۱؍ فیصد سے زیادہ احاطہ پر جھوپڑپٹی والے کلسٹرز کو شامل کیا جائے گا۔ جھوپڑ پٹی  کے مکینوںکی  بازآبادکاری کے منصوبوں کو بنیادی طور پر نجی، سرکاری اور نیم سرکاری بڑی زمینوں پر نافذ کرنے کیلئے جھوپڑپٹی کے مکینوں کی بازآباد کاری کیلئے اتھاریٹی میں’سلم کلسٹر ری ڈیولپمنٹ اسکیم‘نافذ کی جائے گی۔ اس کیلئے جھوپڑپٹیوں کی پیمائش کی جائے گی اور بائیو میٹرک سروے کیا جائے گا۔ اس کے بعد برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی )، ایم ایم آر ڈی اے، مہا پریت جیسی تنظیموں کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط کئے جائیں گے۔
 
 
۳۰۰؍مربع فٹ فلیٹ فراہم کئے جائیں گے
بازآبادکاری اسکیم میں چھوٹے علاقوں کے فلیٹ ہولڈرز کو بھی بڑے مکانات کا فائدہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل۱۸۰، ۲۲۵؍ اور ۲۶۹؍مربع فٹ کے فلیٹ فراہم کئے  جا رہے تھے۔ تاہم اب اس پالیسی کے مطابق۳۰۰؍ مربع فٹ رقبہ کے فلیٹس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کیلئے پرانے پروجیکٹوں کو اَپ گریڈ کرکے ری ڈیولپ کیا جائے گا۔
 
 
نئی جھوپڑپٹیاں نہیں بننے دی جائے گی
اس میگا مہم میں نیترم ٹیکنالوجی کا بھی بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے گا۔ نیترم کے ذریعے سیٹیلائٹ ڈیٹا، جی آئی ایس سسٹم اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے نئی جھوپڑپٹیوں کو بننےسے روکا جائے گا۔ نئی تعمیر شدہ کچی آبادیوں کی اعلیٰ معیار کی سیٹیلائٹ تصاویر کی مدد سے نگرانی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ’بیساگ -این‘ نامی تنظیم کے ویب پورٹل کے ذریعے کچی آبادیوں کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنے اور متعلقہ اداروں کو بھیجنے کا انتظام کیا جائے گا۔جھوپڑ پٹی بحالی اتھاریٹی نے ایک الگ عمل درآمد سیل قائم کیا ہے اور بی ایم سی، مہاڈا اور ضلع کلکٹر کے دفتر کوعلاحدہ نظام قائم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔سیٹیلائٹ تصاویر حاصل کی جائیں گی اور ہر ۴؍ماہ (سال میں تین بار) تجزیہ کیا جائے گا اور نئی تعمیر شدہ کچی آبادیوں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کیلئے ایک طریقہ کار تیار کیاجائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK